ای چالان ‘کراچی میں آنے والی انٹر سٹی بسوں کیلئے ایک اور مشکل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں داخل ہونے والی تمام انٹر سٹی بسوں کے خلاف ای ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شہر کے اندر داخل ہونے والی تمام انٹر سٹی بسوں کے خلاف ای ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق وہ تمام انٹرسٹی بسیں جو سہراب گوٹھ بس ٹرمینل یا کراچی بس ٹرمینل کے قواعد کے خلاف ورزی کرتے ہوئے براہ راست شہر میں داخل ہوتی ہیں ان کے خلاف ای ٹکٹ جاری کیا جا رہا ہے۔مزید برآں سخت قانونی کاروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے خلاف سخت قانونی اقدامات اور مسلسل خلاف ورزی پر اضافی کاروائی کی جائے گی۔ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق انٹر سٹی بسز صرف اور صرف سہراب گوٹھ بس ٹرمینل اور کراچی بس ٹرمینل تک محدود رہیں شہر کے اندر انٹر سٹی بس کا داخلہ ٹریفک میں رکاوٹ حادثات کے خطرات اور شہریوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔تمام ٹرانسپورٹ آپریٹر کوسختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ صرف مقررہ ٹرمینلزکا استعمال کریں اورٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں بدصورت مزید دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انٹر سٹی بس کے خلاف
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔