امریکا نے فراڈی مونیکا کپور کو بھارت کے حوالے کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی: امپورٹ ایکسپورٹ فراڈ کیس میں 25 سال سے مفرور خاتون ملزم مونیکا کپور کو بھارت واپس لانے میں سی بی آئی کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد مونیکا امریکا بھاگ گئی تھی۔ امریکا سے حوالگی کے معاہدے کے تحت اب انہیں بھارت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ امریکا میں حوالگی کے بعد سی بی آئی نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اقتصادی جرم میں مطلوب مونیکا کی حوالگی کے بعد سی بی آئی امریکا سے واپس لا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق مونیکا کپور اپنے دو بھائیوں کے ساتھ مل کر کمپنی چلا رہی تھی۔ سال 1998 میں، انہوں نے جعلی بل، رسیدیں، جعلی بینک دستاویزات اور برآمدی درآمدی دستاویزات تیار کیے۔ان جعلی دستاویزات کی مدد سے انہوں نے حکومت سے چھ ریپلینشمنٹ لائسنس حاصل کیے۔ اس لائسنس کی وجہ سے انہیں ٹیکس فری سونا خریدنے کی اجازت مل گئی۔ بعد میں انہوں نے یہ لائسنس احمد آباد، گجرات میں ایک کمپنی کو بیچ دیا۔ اس کمپنی نے اس لائسنس کا غلط استعمال کیا اور ٹیکس فری سونا درآمد کیا۔
اس مبینہ فراڈ کی وجہ سے حکومت کو 679000 امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ مبینہ دھوکہ دہی کے بعد مونیکا سنہ 1999 میں امریکا بھاگ گئیں۔ سی بی آئی نے سنہ 2004 میں اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی، تاہم وہ فرار ہو گئیں۔ عدالت نے انہیں سنہ 2006 میں مفرور قرار دے دیا۔ پھر سنہ 2010 میں ان کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا گیا۔بتایا جا رہا ہے کہ مرکزی جانچ ایجنسی نے کپور کو امریکا میں اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ انہیں امریکن ایئرلائنز کی پرواز سے بھارت لایا جا رہا ہے۔ نیو یارک کی ایک امریکی عدالت نے ہندوستان اور امریکا کے درمیان دو طرفہ حوالگی کے معاہدے کے تحت ان کی حوالگی کو منظوری دی تھی۔
اس سے قبل مونیکا کپور نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستان واپسی پر ان پر تشدد کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ نے ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے خودسپردگی کرنے کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ سرکار کے مطابق مبینہ دھوکہ دہی سے سرکاری خزانے کو 679000 امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ تفتیشی ایجنسی نے اکتوبر 2010 میں دونوں ممالک کے درمیان حوالگی کے معاہدے کے تحت ملزمہ کپور کی حوالگی کے لیے امریکا سے رجوع کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ