سرپلس ایل این جی کھپانے کے لیے گھریلو گیس کنکشن پر پابندی اٹھانے پر غور شروع
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزارت پیٹرولیم نے سرپلس ایل این جی کھپانے کے لیے گھریلو گیس کنکشن پر پابندی اٹھانے پر غور شروع کردیا۔
نجی ٹی وی سماء نیوز نے وزارت پیٹرولیم ذرائع سے دعویٰ کیاہے کہ پابندی ہٹانے سے گیس پریشر اور درآمدی لاگت پر اسسٹڈی شروع کر دی گئی ، قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کا معاہدہ 2030میں ختم ہورہا ہے، معاہدہ ختم ہونے کے بعد ہرسال 4ارب ڈالر کی ایل این جی منگوانا پڑے گی، درآمدی ایل این جی کا خرچہ گھریلو کنکشز سے پورا ہونے سے متعلق اسسٹڈی جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق گھریلو صارفین کا ٹیرف 1800 اور درآمدی ایل این جی کا 3500ایم ایم سی ایف ڈی ہے، سردیوں میں درآمدی ایل این جی گھریلو صارفین کو دینے سے 250 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔
باپ کے جنازے میں شرکت کیلئے جانے والے 2بھائی بھی بلوچستان میں دہشتگردی کا نشانہ بن گئے
پاور سیکٹر کی طلب کم ہونے کے باعث درآمدی ایل این جی سرپلس ہوگئی، سرپلس ایل این جی کے باعث مقامی گیس کی پیداوار روکنا پڑتی ہے، گیس پائپ لائنز پھٹنے سے بچانے کیلئے مقامی پیداوار روکنا پڑتی ہے۔ ایل این جی سرپلس ہونے کے باعث حکومت 5 کارگوز مؤخر بھی کرچکی۔
واضح رہے کہ کم ریکوری اور گیس کی قلت کے باعث گھریلو کنکشنز پر 2019میں پابندی لگائی گئی،300 ایم ایم سی ایف ڈی سے 40 لاکھ صارفین کو نئے کنکشز مل سکتے ہیں۔ اس وقت نئے گھریلو گیس کنکشنز کی 35 لاکھ سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں۔
ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق پابندی اٹھائی گئی تو سیکیورٹی جمع کرانے والے 3لاکھ صارفین ترجیج ہوں گے، اسٹدی مکمل ہونے کے بعد وفاقی کابینہ کو سمری بھیجی جائے گی ، وفاقی کابینہ ہی گھریلو گیس کنکشنز پر سے پابندی ہٹانے کا فیصلہ کرے گی۔
امریکہ کا ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے پر زور
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: درآمدی ایل این جی گھریلو گیس ہونے کے کے باعث
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔