Jasarat News:
2026-06-02@22:51:37 GMT

کراچی میں ای سگریٹ کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)کراچی کے نوجوانوں میں ای سگریٹ کے استعمال کے رحجان میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیاہے۔خواتین ،مردوں ،کم عمر بچے اور بچیاں میں بھی ای سگریٹ کے استعمال کا رجحان بڑھ گیا ہے، نوجوانوں میں یہ لت تیزی سے پھیل رہی ہے، کراچی میں یہ منافع بخش کاروبار بن گیا ہے شہر کے مختلف علاقوں جس میں گلشن اقبال،ملیر کینٹ،ماڈل کالونی،کلفٹن،گلستان جوہر منورچورنگی،اورنگی ٹائون سمیت کراچی کے دیگر علاقوں میں ویپ کیفے،ویپ لیب،ویپنگ کلب اور ویپ پوائنٹ کے ناموں سے دوکانیں موجود ہیں جہاںباآسانی اس کی خرید و فروخت جاری ہے۔کراچی میں ای سگریٹ کا استعمال40 فیصد تک ہوگیا ہے۔ کراچی میں نوجوانوں کی اکثریت ای سگریٹ کی لت میں مبتلا ہونے لگی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ای سگریٹ بھی دیگر تمباکو نوشی کی طرح ہی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ماہر ن نے کراچی میں ای سگریٹ کے بڑھتے ہوئے رحجان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ای سیگریٹ کے حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق نیکوٹین کے صحت پر مرتب ہونے والے مضر اثرات اور دیگر خطرات کے بارے میں علم ہونے کے باوجود نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ای سگریٹ، بیٹری سے چلنے والے سگریٹ نوشی کے آلات کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ای سیگریٹ کے استعمال کا براہ ر است اثر پھیپھڑوں پر پڑ رہاہے۔تحقیق کے مطابق گزشتہ 5برس میں ای سگریٹ کا استعمال 29 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ تحقیق میں یہ پتا چلا ہے کہ اوسط عمر جس میں لوگ ای سگریٹ کا استعمال شروع کرتے ہیں وہ 17 سال ہے ،اور 58 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ای سگریٹ کا استعمال اس لیے کرتے ہوئے کیونکہ انکی نظر میں وہ ایسا کرکے کول نظر آتے ہیں۔ای سیگریٹ کے موضوع پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ جواب دہندگان میں سے نصف سے زیادہ (55 فیصد) ای سگریٹ کے استعمال کے بارے میں کافی معلومات رکھتے تھے۔شرکاء میں سے 6 فیصد افراد کو ہائی بلڈ پریشر، 0.

1 فیصد کے لگ بھگ دمہ اور 35.4 فیصد میں تشویش، ڈپریشن یا کسی اور نفسیاتی بیماری کی مثبت تاریخ پائی گئی۔ جواب دہندگان میں سے 79 فیصد کی کل آمدنی 60,000 روپے سے زیادہ تھی۔بیٹری سے چلنے والے ای سگریٹ پورٹیبل ہوتے ہیں اور اسے بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق کراچی میں ای سگریٹ کی فروخت بنیادی طور پر2020 میں کراچی سے شروع ہوئی اور تیزی سے پاکستان کے دوسرے شہروں میں پھیل گئی ہے۔پروفیسر اور کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ کے مطابق کراچی میں ای سگریٹ کے حوالے سے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں ای سیگریٹ فروخت کرنے والی کمپنیوں نے اپنی تشہیری مہموں میں نوجوانوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔طبی ماہرین صحت کے مطابق ای سگریٹ کے استعمال سے مختلف خطرناک بیماریاں پھیلنا شروع ہو گئی ہیں کراچی میں ویب پینے کے رحجان میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے مخصوص جنرل اسٹورز پر ان کی خرید و فروخت جاری ہے تاہم متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے ای سگریٹ کی خرید وفروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سگریٹ کا استعمال سگریٹ کے استعمال کراچی میں ای سگریٹ میں ای سگریٹ کے کے مطابق میں یہ گیا ہے

پڑھیں:

نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ

صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیے جانے کی توقع ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت پنجاب نے نوجوانوں کو آئندہ مالی سال میں الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت دی جائے گی، رجسٹریشن سمیت دیگر مراعات بھی دی جائیں گی۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اسکیم کے لیے اہلیت کیا ہو گی اس بارے میں تفصیلات آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں دیئے جانے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی