Jasarat News:
2026-07-24@03:04:34 GMT

کراچی میں ای سگریٹ کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ:منیر عقیل انصاری)کراچی کے نوجوانوں میں ای سگریٹ کے استعمال کے رحجان میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیاہے۔خواتین ،مردوں ،کم عمر بچے اور بچیاں میں بھی ای سگریٹ کے استعمال کا رجحان بڑھ گیا ہے، نوجوانوں میں یہ لت تیزی سے پھیل رہی ہے، کراچی میں یہ منافع بخش کاروبار بن گیا ہے شہر کے مختلف علاقوں جس میں گلشن اقبال،ملیر کینٹ،ماڈل کالونی،کلفٹن،گلستان جوہر منورچورنگی،اورنگی ٹائون سمیت کراچی کے دیگر علاقوں میں ویپ کیفے،ویپ لیب،ویپنگ کلب اور ویپ پوائنٹ کے ناموں سے دوکانیں موجود ہیں جہاںباآسانی اس کی خرید و فروخت جاری ہے۔کراچی میں ای سگریٹ کا استعمال40 فیصد تک ہوگیا ہے۔ کراچی میں نوجوانوں کی اکثریت ای سگریٹ کی لت میں مبتلا ہونے لگی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ای سگریٹ بھی دیگر تمباکو نوشی کی طرح ہی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ ماہر ن نے کراچی میں ای سگریٹ کے بڑھتے ہوئے رحجان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ای سیگریٹ کے حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق نیکوٹین کے صحت پر مرتب ہونے والے مضر اثرات اور دیگر خطرات کے بارے میں علم ہونے کے باوجود نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ای سگریٹ، بیٹری سے چلنے والے سگریٹ نوشی کے آلات کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ای سیگریٹ کے استعمال کا براہ ر است اثر پھیپھڑوں پر پڑ رہاہے۔تحقیق کے مطابق گزشتہ 5برس میں ای سگریٹ کا استعمال 29 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ تحقیق میں یہ پتا چلا ہے کہ اوسط عمر جس میں لوگ ای سگریٹ کا استعمال شروع کرتے ہیں وہ 17 سال ہے ،اور 58 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ وہ ای سگریٹ کا استعمال اس لیے کرتے ہوئے کیونکہ انکی نظر میں وہ ایسا کرکے کول نظر آتے ہیں۔ای سیگریٹ کے موضوع پر ہونے والی تحقیق میں یہ بھی پتا چلا کہ جواب دہندگان میں سے نصف سے زیادہ (55 فیصد) ای سگریٹ کے استعمال کے بارے میں کافی معلومات رکھتے تھے۔شرکاء میں سے 6 فیصد افراد کو ہائی بلڈ پریشر، 0.

1 فیصد کے لگ بھگ دمہ اور 35.4 فیصد میں تشویش، ڈپریشن یا کسی اور نفسیاتی بیماری کی مثبت تاریخ پائی گئی۔ جواب دہندگان میں سے 79 فیصد کی کل آمدنی 60,000 روپے سے زیادہ تھی۔بیٹری سے چلنے والے ای سگریٹ پورٹیبل ہوتے ہیں اور اسے بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق کراچی میں ای سگریٹ کی فروخت بنیادی طور پر2020 میں کراچی سے شروع ہوئی اور تیزی سے پاکستان کے دوسرے شہروں میں پھیل گئی ہے۔پروفیسر اور کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ کے مطابق کراچی میں ای سگریٹ کے حوالے سے قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں ای سیگریٹ فروخت کرنے والی کمپنیوں نے اپنی تشہیری مہموں میں نوجوانوں کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔طبی ماہرین صحت کے مطابق ای سگریٹ کے استعمال سے مختلف خطرناک بیماریاں پھیلنا شروع ہو گئی ہیں کراچی میں ویب پینے کے رحجان میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے مخصوص جنرل اسٹورز پر ان کی خرید و فروخت جاری ہے تاہم متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے ای سگریٹ کی خرید وفروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سگریٹ کا استعمال سگریٹ کے استعمال کراچی میں ای سگریٹ میں ای سگریٹ کے کے مطابق میں یہ گیا ہے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف