ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تین ماہ بعد گرفتاری ظاہر
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ:ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے پانچ رہنماﺅں سمیت چھ افراد کی تین ماہ سے زائد کے عرصے بعد منگل کے روز مختلف مقدمات میں گرفتاری ظاہر کی گئی اور ان مقدمات میں انسداد دہشت گردی کوئٹہ کی عدالت نے ان کو دس روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
ان کی گرفتاری کوئٹہ کے دو تھانوں سول لائنز اور بروری روڈ پولیس سٹیشنز میں درج مقدمات میں ظاہر کی گئی ہے۔اس سے قبل ان کو 3 ماہ کے زائد کے عرصے سے تھری ایم پی او کے تحت زیر حراست رکھا گیا تھا۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ نے تین ماہ سے زائد کے عرصے تک انھیں ایم پی او کے تحت زیر حراست رکھنے کے بعد مقدمات میں ان کی گرفتاری کو ظاہر کرنے کے اقدام کو حکومت کی بدنیّتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے قانون کو پامال کیا گیا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کے پانچ رہنماﺅں سمیت چھ افراد کو سخت سکیورٹی میں سیشن کورٹس میں واقع سعادت بازئی پر مشتمل انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ان میں بی وائی سی کی دیگر رہنماﺅں میں بیبو بلوچ ، گلزادی بلوچ ، صبغت اللہ شاہ جی اور بیبرگ بلوچ کے علاوہ نیشنل پارٹی کے سینئر کارکن اور بیبو بلوچ کے والد غفار بلوچ شامل تھے۔ان میں سے مردوں کو ہتھکڑی لگا کر عدالت لایا گیا تھا جن میں سے بیبرگ بلوچ بھی شامل تھے جو دو پیروں سے معزور ہونے کے باعث وہیل چیئر پر ہیں۔
نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ کے مطابق ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے عدالت کی توجہ بیبرگ بلوچ کی جانب دلاتے ہوئے کہا کہ جسمانی طور پر ایک معذور شخص جو اپنے پیروں پر چل نہیں سکتے کو بھی ہتھکڑیاں لگانے سے گریز نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بیبرگ بلوچ کو ہتھکڑیاں نہیں لگائی جائیں۔نادیہ بلوچ نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد کو ریمانڈ کے لیے دو تھانوں میں درج ایف آئی آرز میں عدالت میں پیش کیا گیا جن میں سول لائنز پولیس اسٹیشن اور بروری روڈ پولیس اسٹیشن شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ مقدمات میں بیبرگ بلوچ کیا گیا
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔