ترکیہ کی درخواست اور پاکستان کی رضامندی کے بعد افغان طالبان سے مذاکرات کا پھر آغاز
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول/پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ثالث ترکیہ کی درخواست پر افغان طالبان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامند ہوگیا، مذاکراتی عمل کو جاری رکھ کر امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی وفد نے وطن واپسی کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے جب کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کا مطالبہ برقرار ہے۔واضح رہے کہ یہ مذاکرات استنبول میں ثالثوں کی موجودگی میں ہو رہے ہیں، استبول میں گزشتہ مذاکرات 4 روز جاری رہے، تاہم طالبان کے غیر لچکدار رویے کے باعث مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل ایک بیٹھک میں مکمل نہیں ہوسکتا،پاک افغان مذاکرات میں خیبرپختونخوا بھی اسٹیک ہولڈر ہے مگر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخاب کے لیے ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ کوئی ملک کسی کا سگا نہیں ہوتا سب اپنے مفادات دیکھتے ہیں، ہمیں اس وقت ایک اسٹیٹ مین کی ضرورت ہے جو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے، 22 آپریشنز اور 14 ہزار انٹیلجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود دہشت گردی کیوں ختم نہیں ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔