بی جے پی نے ہمیں راجیہ سبھا انتخاباتی ڈیل کی پیشکش کی تھی لیکن ہم نے مسترد کردی، فاروق عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
پیپلز کانفرنس کے سجاد لون کیجانب سے بی جے پی کو 7 ووٹ تحفے میں دئیے جانے کے سوال پر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبدللہ نے کہا کہ 7 ووٹ تحفے میں دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ان سے رابطہ کیا اور راجیہ سبھا انتخابات میں چوتھی نشست کے لئے ڈیل کی پیشکش کی۔ نیشنل کانفرنس کے مرکزی دفتر نوائے صبح واقع سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے ان کے لئے راجیہ سبھا کی چوتھی نشت چھوڑنے اور راجیہ سبھا کے انتخابات میں صرف تین سیٹوں پر مقابلہ کرنے کے لئے ان سے رجوع کیا تھا، تاہم ہم نے بی جے پی کی پیشکش کو مسترد کر دیا اور چوتھی سیٹ پر بھی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔
پیپلز کانفرنس کے سجاد لون کی جانب سے بی جے پی کو 7 ووٹ تحفے میں دئیے جانے کے سوال پر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبدللہ نے کہا کہ 7 ووٹ تحفے میں دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر ہمارا امیدوار نے 21 ووٹ کیسے حاصل کئے۔ انہوں نے تمام جماعتوں بشمول کانگریس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی)، اے آئی پی اور آزاد امیدواروں کا راجیہ سبھا انتخابات میں این سی امیدواروں کی حمایت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے نیشنل کانفرنس کے تین امیدواروں نے راجیہ سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی جبکہ بی جے پی نے ایک این سی امیدوار عمران نبی ڈار کو شکست دے کر غیر متوقع طور پر ایک سیٹ پر کامیابی درج کی۔
بتا دیں کہ جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج سیاسی تنازع کی صورت اختیار کرچکے ہیں کیونکہ پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے نیشنل کانفرنس (این سی) پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ "خفیہ مفاہمت" کرنے کا الزام عائد کیا۔ جبکہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کو پرانے سیاسی چہروں کے ذریعے "دھوکہ" ملا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راجیہ سبھا انتخابات نیشنل کانفرنس کے انتخابات میں نے کہا کہ بی جے پی
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔