پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی روابط میں بہتری آ رہی ہے، جس کا تازہ ثبوت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی و سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے حکام کے لیے ویزا فری داخلے کا معاہدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی کی بنگلہ دیشی ہم منصب سے ملاقات، ویزا فری انٹری سمیت سیکیورٹی تعاون پر اہم پیشرفت

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش میں عبوری حکومت نے محمد یونس کی قیادت میں عنانِ اقتدار سنبھالا ہے، اور دونوں ممالک تعلقات کو ازسرِنو استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا نے اس معاہدے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ اور ’دی پرنٹ‘ جیسے ذرائع ابلاغ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ویزا فری رسائی پاکستانی خفیہ ایجنسیوں، بالخصوص آئی ایس آئی، کے لیے آسانی پیدا کر سکتی ہے۔

نئی دہلی کو خطرہ ہے کہ اس تعاون سے بنگلہ دیش میں بھارت مخالف اسلامی انتہا پسندی کو تقویت مل سکتی ہے، جو شمال مشرقی بھارت میں شورش پسند گروہوں کی پشت پناہی کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دلیر بنگلہ دیشی طالب علم ابو سعید کی شہادت کو ایک سال مکمل، اس روز کیا ہوا تھا، ساتھیوں نے تفصیل بتادی

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ معاہدہ ڈھاکہ میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کے بنگلہ دیشی ہم منصب لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانگیر عالم چودھری کے مابین ملاقات کے دوران طے پایا۔

ملاقات میں اندرونی سلامتی، انسدادِ منشیات، انسدادِ انسانی اسمگلنگ، اور پولیس ٹریننگ جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

حالیہ مہینوں میں بنگلہ دیش میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان و بنگلہ دیش کے تعلقات میں واضح بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنگلہ دیشی حکام کو پولیس ٹریننگ کی پیش کش کی، جبکہ ایک اعلیٰ سطحی بنگلہ دیشی وفد جلد اسلام آباد کا دورہ کرے گا تاکہ پاکستان کے سیف سٹی پراجیکٹ اور نیشنل پولیس اکیڈمی کا جائزہ لے سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام اباد انڈیا بنگلہ دیش پاکستان دہلی ڈھاکہ محسن نقوی ویزا فری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام اباد انڈیا بنگلہ دیش پاکستان دہلی ڈھاکہ محسن نقوی ویزا فری بنگلہ دیشی محسن نقوی بنگلہ دیش ویزا فری

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن