عالیہ بھٹ کیساتھ 77 لاکھ روپے کا فراڈ؛ سابق اسسٹنٹ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
معروف بھارتی اداکارہ عالیہ بھٹ سے 77 لاکھ روپے کا غبن کرکے فرار ہونے والی ان کی سابق پرسنل اسسٹنٹ کو پولیس نے بالآخر حراست میں لے لیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس فراڈ سے متعلق پولیس کو اداکارہ عالیہ بھٹ اور ان کی والدہ سونی رازدان نے 23 جنوری کو شکایت درج کرائی تھی۔
جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عالیہ بھٹ کی پروڈکشن کمپنی (ایٹرنل سن شائن پروڈکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ) اور ذاتی اکاؤنٹس سے ان کی سابق پرسنل اسسٹنٹ 32 سالہ ویدیکا پرکاش شیٹی نے غبن کیا ہے۔
عالیہ کی پرسنل اسسٹنٹ نے یہ فراڈ مئی 2022 سے اگست 2024 کے دوران کیا۔ جس ے دوران ویدیکا نے سفر، ملاقاتوں اور دیگر متعلقہ انتظامات کے جعلی بل تیار کیے اور عالیہ سے دستخط کروائے تھے۔
سابق پرسنل اسسٹنٹ ان دستخط شدہ چیکس کو پہلے پہلے اپنے دوست کے اکاؤنٹ میں ڈلواتی تھی اور پھر وہاں سے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرتی رہی۔
جب عالیہ بھٹ نے مقدمہ درج کرایا تو ویدیکا فرار ہوگئی تھی اور 6 مہینے کی مسلسل تلاش کے بعد بالآخر پولیس نے اسے بنگلورو سے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: عالیہ بھٹ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔