بین الاقوامی خلائی اسٹیشن روانگی کے لیے ناسا مشن تیار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ناسا کے 4 رکنی بین الاقوامی عملے نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے جمعرات کو طے شدہ روانگی سے قبل فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں اپنی موجودگی درج کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ناسا کا چاند و مریخ پر رابطوں کا نیا جال بچھانے کا منصوبہ، امریکی کمپنیوں سے تجاویز طلب
مشن کی قیادت ناسا کی خلاباز زینا کارڈمین کر رہی ہیں، جبکہ دیگر ارکان میں ناسا کے مائیک فنک، جاپانی خلائی ادارے JAXA کے کیمیا یُوئی اور روسی خلا نورد اولیگ پلاٹونوف شامل ہیں۔
یہ ٹیم لانچ کمپلیکس 39A سے اسپیس ایکس کے کریو ڈریگن ’انڈیور‘ پر سوار ہو کر روانہ ہوگی۔
کینیڈی سینٹر پہنچنے پر زینا کارڈمین نے اپنے تاثرات میں کہا کہ یہاں آکر اب مشن کی حقیقت کا احساس ہونے لگا ہے اور آنے والا ہفتہ ایک ایک لمحے کے ساتھ مزید سنجیدہ اور حقیقت سے قریب تر ہوتا جائے گا۔
مائیک فنک نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وہ اسپیس شٹل انڈیور پر فلوریڈا میں لینڈ کر چکے ہیں اور اب ایک اور ’انڈیور‘ یعنی ڈریگن انڈیور کے ذریعے خلا میں روانہ ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرانسپورٹ کے سیکریٹری کو ناسا کا عبوری سربراہ مقرر کردیا
یہ خلائی جہاز برطانوی جہاز HMS Endeavour کے نام پر رکھا گیا ہے جس پر کپتان جیمز کک نے 1768 سے 1771 کے دوران جنوبی بحرالکاہل کی مہم کی قیادت کی تھی۔
اس مشن کے لیے اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ استعمال ہوگا جو ڈریگن انڈیور کو زمین کے نچلے مدار میں لے جائے گا۔
لانچ جمعرات کو دوپہر 12 بجے (ایسٹ کوسٹ وقت کے مطابق) طے ہے، اور اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہا تو یہ جہاز 2 اگست کو آئی ایس ایس سے منسلک ہو جائے گا۔
وہاں یہ ٹیم ایکسپیڈیشن 73 کے عملے کا حصہ بنے گی، جو پہلے سے اسٹیشن پر موجود ہے۔ بعد ازاں ایکسپیڈیشن 74 کا عملہ ان کی جگہ لے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن خلائی مشن ناسا ناسا مشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن خلائی مشن بین الاقوامی کے لیے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔