پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کو سکیورٹی خدشات پر سبی ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا۔ریلوے حکام کے مطابق پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس ڈمبولی میں دھماکے کے باعث تقریباً 6 گھنٹے کی تاخیر سے سبی پہنچی تو سکیورٹی کلئیرنس نہ ہونے کی بنا پر ٹرین کو سبی ریلوے اسٹیشن پر روک لیا گیا۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ مسافرسبی سے کوئٹہ تک کرایہ واپس لے سکتے ہیں ،تاہم جمعہ کی صبح ایک ٹرین کے ذریعے ان مسافر وں کو کوئٹہ پہنچایا جائے گا۔دوسری جانب ریلوے حکام نے جمعہ کو کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن ٹرین کو منسوخ کردیا ہے ۔حکام کے مطابق چمن ٹرین کے ڈبوں میں جعفر ایکسپریس کے مسافروں کو سبی پہنچایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس سے کوئٹہ

پڑھیں:

حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔

امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔

ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی