یوٹیوبر ابرار قریشی کو دو سیاسی شخصیات کو 2.6 لاکھ پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
برطانیہ کی عدالت نے کشمیری نژاد یوٹیوبر ابرار قریشی کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں دو سیاسی رہنماؤں کو 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ سے زائد ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ فیصلہ ابرار قریشی کی جانب سے اپنے یوٹیوب پروگرام 'گورکھ دھندہ' میں سنگین الزامات لگانے کے بعد سامنے آیا۔
یہ مقدمہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری محمد یاسین اور ان کے بیٹے چوہدری عمار یاسین نے لندن کی عدالت میں دائر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیوز میں لگائے گئے الزامات نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ ابرار قریشی نے الزامات نشر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی دعویداروں کا مؤقف لیا، جو صحافتی ذمہ داری کے خلاف ہے۔ عدالت نے یوٹیوبر کو ہر دعوے دار کو 1 لاکھ 30 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ، 21 ہزار 829 پاؤنڈ سود اور 65 ہزار پاؤنڈ قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
جج نے یہ بھی کہا کہ ان ویڈیوز سے دعویداروں کو پاکستان اور برطانیہ میں عوامی سطح پر بدنامی کا سامنا کرنا پڑا، اور ویڈیوز کے لہجے سے ناظرین کو یہ تاثر ملا کہ الزامات درست ہیں۔
عدالت نے ابرار قریشی کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسے الزامات دوبارہ شائع نہ کریں اور 7 دن کے اندر فیصلے کا خلاصہ اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع کریں۔
چوہدری محمد یاسین نے عدالت کے فیصلے کو "سچائی اور احتساب کی فتح" قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دیا ہے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔