آئینی و قانونی معاملات میں ملت جعفریہ کے وکلاء کا کردار اہم ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
شکارپور میں پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ملک بھر میں ہمارے وکلاء کو منظم ہو کر ملت کے عزت و وقار اور قومی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت علامہ مقصود علی ڈومکی نے کورٹ کچہری اور آئینی و قانونی معاملات میں ملت جعفریہ کے وکلاء کا کردار نہایت اہم اور قابل تحسین ہے۔ عزاداری امام حسین علیہ السلام اور ذکر اہل بیت علیہم السلام کے خلاف ناصبی دشمن مقدمات قائم کرکے ہمارے جوانوں کو جعلی مقدمات میں الجھا رہا ہے۔ ایسے میں شیعہ وکلاء آگے بڑھ کر دین مذہب اور ملت کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شکارپور میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ مقصود ڈومکی نے ایم ڈبلیو ایم ضلع شکارپور کے ضلعی رہنماء کامران علی دل کے چچا کی وفات پر ان کی رہائش گاہ پہنچ کر ورثاء سے تعزیت کی اور مرحوم کے بلندی درجات کے لئے دعا کی۔ ایم ڈبلیو ایم کے قانونی مشیر ایڈوکیٹ مظہر حسین منگریو، سنگار علی صفوی، برادر کامران علی دل اور دیگر شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ جس طرح ایڈوکیٹ مظہر علی منگریو نے شکارپور میں ملت کے مقدمات کی پیروی بہادری، جرأت اور استقامت سے کی ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ ملک بھر میں ہمارے وکلاء کو منظم ہو کر ملت کے عزت و وقار اور قومی حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ قبل ازاں علامہ مقصود علی ڈومکی نے آل ڈومکی اتحاد کی جانب سے منعقدہ فری میڈیکل کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ڈی آئی پی کے ضلعی صدر منصب علی ڈومکی، رحم دل ٹالانی استاد محمد رفیق اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ انہوں نے فری میڈیکل کیمپ کے انعقاد کو خوش آیند قرار دیتے ہوئے کہا کہ خدمتِ انسانیت بہترین عبادت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر مذہبی رواداری اور اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیں تاکہ ایک پرامن، منصفانہ اور باوقار معاشرہ قائم ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی ڈومکی نے ملت کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی