data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: لیاری میں عمارت گرنے اور اس سانحے میں ایس بی سی اے کے اہلکاروں سمیت متعدد افراد کی گرفتاری کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہر بھر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایس بی سی اے نے اعلان کیا ہے کہ غیر قانونی اور زیرِ تعمیر غیر قانونی عمارتوں کو فوری طور پر گرا دیا جائے گا، اور اس کے لیے ایک فیصلہ کن منصوبہ بندی مرتب کی گئی ہے۔

یہ کارروائیاں کراچی کے مختلف علاقوں میں عمل میں لائی جائیں گی، اور انہدام پر آنے والے اخراجات متعلقہ عمارت مالکان سے وصول کیے جائیں گے۔ اگر مالکان رقم ادا کرنے سے انکار کریں، تو یہ رقم ٹیکس کی مد میں وصول کی جائے گی۔

منصوبے کے تحت انسدادِ تجاوزات کی یہ مہم گنجان آباد علاقوں سے شروع کی جائے گی، جس میں ضلعی انتظامیہ بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔

ایس بی سی اے نے یقین دہانی کروائی ہے کہ انہدام کے عمل میں تمام حفاظتی اقدامات اور قانونی ضوابط پر مکمل عمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کے جان و مال کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

اس سلسلے میں ایس بی سی اے نے تمام ایڈیشنل ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرز، ریجنل ڈائریکٹرز اور ڈائریکٹر ڈیمولیشن کو فوری عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کی رپورٹ پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لیاری کے بغدادی علاقے میں ایک عمارت گرنے کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس بی سی اے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا