ایران سےمتعلق خاموشی سے تعمیری کردار ادا کرنے پر امریکہ نے پاکستان کی تعریف کردی
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نائب وزیرِاعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران ایران سے متعلق بات چیت میں ثالثی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور خطے میں استحکام قائم رکھنے کے عزم کو سراہا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا اور اگست میں اسلام آباد میں ہونے والے پاک-امریکہ انسدادِ دہشت گردی ڈائیلاگ پر بات کی گئی۔بیان میں مزید کہا گیا امریکی وزیر خارجہ نے باہمی مفاد پر مبنی دو طرفہ تجارت کو وسعت دینے اور معدنیات و کان کنی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔دوسری جانب اسحاق ڈار نے کہا دو طرفہ تعلقات کے مکمل دائرہ کار پر ایک جامع گفتگو" قرار دیا اور امریکہ کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گفتگو میں اقتصادی، تجارتی، سرمایہ کاری، آئی ٹی/اے آئی، اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں پر نئی توجہ دی گئی۔
اس سال پنجاب میں مون سون بارشوں کے دوران 151افراد جاں بحق اور 538زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔