سفرِ عشق زیارات مقدسہ پر کسی قدغن کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ایک بیان میں سیکریٹری جنرل ٹی این ایف جے نے کہا کہ زیارت کے سفر کو تحفظ فراہم کرکے ریاست کی طاقت کا عملی مظاہرہ کیا جائے، پابندی سے غریب زائرین مقدس سفر سے محروم ہو جائیں گے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کو بلا تفریق تحفظ اور بنیادی حقوق فراہم کرے جس سے پہلو تہی کسی صورت نہیں کرنے دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ بشارت حسین امامی نے حکومت زمینی راستے سے زیارات پر پابندی کا فیصلہ واپس لے، پابندی سے دہشت گردوں کے سامنے ریاست کی بے بسی کا تاثر ابھرے گا، زیارت کے سفر کو تحفظ فراہم کرکے ریاست کی طاقت کا عملی مظاہرہ کیا جائے، پابندی سے غریب زائرین مقدس سفر سے محروم ہو جائیں گے، پاک فوج زائرین کو تحفظ فراہم کرنے کی بھرپور طاقت رکھتی ہے، عوام اور حکومت باہمی اتحاد سے دہشت گردوں کو ناکام بنادیں گے۔
علامہ بشارت حسین امامی نے کہا کہ زائرین امام حسینؑ کا سفرِ عشق مودتِ اہلِ بیتؑ اور معرفت حق کا عملی مظاہرہ ہے جس کے درجات و ثواب کا احاطہ ممکن نہیں۔ سیکریٹری جنرل ٹی این ایف جے نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام شہریوں کو بلا تفریق تحفظ اور بنیادی حقوق فراہم کرے جس سے پہلو تہی کسی صورت نہیں کرنے دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپنے دینی و ملی حقوق کی خاطر مارشل لاء میں بھی کلمہ حق بلند کرنے کا درس آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے دیا ہے، لہذا عزاداری سید الشہداء اور سفرِ عشق زیارات مقدسہ پر کسی قدغن کو کبھی تسلیم نہیں کرینگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔