وفاقی حکومت نے اربعین (چہلم) کے موقع پر عراق اور ایران جانے والے زائرین کے لیے زمینی راستے سے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:40 ہزار پاکستانی زائرین لاپتا: عراق، ایران اور شام میں کہاں گئے؟ وزیر مذہبی امور کا انکشاف

تاہم فضائی سفر کی اجازت برقرار رہے گی۔ یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات اور عوامی تحفظ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زمینی راستے میں ممکنہ خطرات کے باعث یہ مشکل قدم قومی سلامتی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

یہ فیصلہ وزارت خارجہ، حکومت بلوچستان اور سیکیورٹی اداروں سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان، ایران اور عراق کا زائرین کی سہولت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق

وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ دنوں میں زائرین کے لیے زیادہ سے زیادہ پروازوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ افراد کو سہولت دی جا سکے۔

حکومت جلد ایک تفصیلی منصوبہ جاری کرے گی جس میں فضائی انتظامات کو منظم بنانے اور متاثرہ زائرین کی مدد کے اقدامات شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایسے ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جو غیرقانونی طریقے سے 50 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو عراق بھجوا چکے تھے۔

پاکستانی سفارتخانے نے عراق میں غیر قانونی پاکستانیوں کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایف آئی اے کو خط لکھا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اربعین ایران چہلم زائرین عراق.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران چہلم کے لیے

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور