UrduPoint:
2026-07-24@06:33:01 GMT

پی ٹی آئی کی تحریک اور عمران خان کے بیٹوں کی متوقع شرکت

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

پی ٹی آئی کی تحریک اور عمران خان کے بیٹوں کی متوقع شرکت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 11 جولائی 2025ء) پانچ اگست 2025ء کو عمران خان کو قید ہوئے دو سال مکمل ہو جائیں گے۔ اور پاکستان تحریک انصاف اس تاریخ سے ملک گیر احتجاج شروع کرنے جا رہی ہے، جس کی قیادت خود عمران خان جیل سے کریں گے۔ اپنے پرانے طریقہ کار کے برعکس، پی ٹی آئی نے اس بار بڑے رہنماؤں کے بجائے اپنے نچلی سطح کے کارکنوں پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوامی حمایت کو متحرک کیا جا سکے۔

کیا پی ٹی آئی احتجاج سے کچھ حاصل کر سکے گی؟

یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کے پہلے کیے گئے احتجاج نہ صرف ناکام رہے بلکہ ان سے پارٹی مزید تنہائی کا شکار ہوئی اور ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے۔ اس بار یہ توقع کی جا رہی ہے کہ عمران خان کے بیٹے، قاسم اور سلیمان، اپنے والد کی مبینہ غیر قانونی گرفتاری کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شرکت کریں گے۔

(جاری ہے)

میڈیا رپورٹس کے مطابق، دونوں بیٹے پہلے امریکہ جائیں گے اور وہاں سے پاکستان آ کر احتجاج میں شامل ہوں گے۔

سیاسی قیادت اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی شمولیت سے تحریک میں کچھ توانائی ضرور آ سکتی ہے، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ قاسم اور سلیمان کتنی قربانی دینے اور تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھٹو دور سے مشابہت رکھتی ہے، جب وہ جیل میں تھے اور بینظیر بھٹو نے پاکستان آ کر تحریک کی قیادت کی، لیکن اس راہ میں انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا: ''عمران خان کے بیٹوں کی تحریک میں شمولیت اہم ہوگی، لیکن یہ ان کی محنت اور توانائی پر منحصر ہے کہ وہ کتنا کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حکومت ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتی ہے؟ آیا وہ انہیں گرفتار کر کے ہیرو بنا دیتی ہے یا پھر نظرانداز کر کے غیر اہم بنا دیتی ہے۔‘‘ قاسم اور سلیمان کو گرفتار کرنے کی حکومتی دھمکی

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان پانچ اگست کو پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کی قیادت کے لیے پاکستان آئے، تو انہیں گرفتار کیا جائے گا اور وہ مشکلات میں پڑ سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق، ''حکومت کی غلطیاں ہی طے کریں گی کہ پی ٹی آئی کا آنے والا احتجاج کتنا کامیاب ہو سکتا ہے۔‘‘

جب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خان کے بیٹے احتجاج میں شرکت کے لیے پاکستان آ رہے ہیں، یہ معاملہ مسلسل زیر بحث ہے۔ کچھ لوگ اسے عمران خان کے بیٹوں کا عملی سیاست میں داخلہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ وہ احتجاج میں شرکت پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے والد کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ اس کے خلاف آواز بلند کریں اور احتجاج کریں۔

ڈاکٹر زرقا کا، جو سینیٹر ہیں اور پی ٹی آئی سے وابستہ ہیں، کہنا ہے کہ خان کے بیٹے صرف اپنے والد کے لیے آ رہے ہیں، وہ سیاست میں داخل نہیں ہو رہے۔ انہوں نے کہا، ''خان صاحب نے ہمیشہ خاندانی سیاست کو ناپسند کیا ہے اور اب بھی کرتے ہیں۔ قاسم اور سلیمان صرف اس لیے آ رہے ہیں کیونکہ پارٹی اپنے قائد کو انصاف دلوانے میں زیادہ کچھ نہیں کر سکی۔

یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنے والد کے لیے احتجاج کریں، اور مجھے یقین ہے کہ ان کے پاس کوئی پلان بھی ہوگا۔‘‘

یہ جاننا ضروری ہے کہ عمران خان کے بیٹے 27 سالہ سلیمان، اور 25 سالہ قاسم نے اب تک کبھی سیاست میں مداخلت نہیں کی اور وہ اپنی والدہ جمائما کے ساتھ برطانیہ میں مقیم ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں دونوں بھائیوں نے اپنے والد عمران خان کے لیے آواز اٹھانا شروع کی ہے۔

وہ اس سلسے میں بین الاقوامی شخصیات اور میڈیا سے بھی یہ اپیلیں کر رہے ہیں کہ ان کے والد کے ساتھ نا انصافی کے مسئلے کو اجاگر کیا جائے، اور انہیں انصاف دلایا جائے۔

پاکستان میں رائے ساز حلقے اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ خان کے بیٹوں کے سیاست میں آنے کی بحث ایک غیر ضروری، کمزور اور منفی بحث ہے۔

معروف صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں، ''اصل مسئلے کچھ اور ہیں، ان کے والد دو سال سے بغیر کسی معقول وجہ کے جیل میں ہیں، ملک میں انتخابات میں دھاندلی ہوئی، عدلیہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے، اور لوگ قاسم اور سلیمان کے سیاست میں آنے پر بات کر رہے ہیں؟ یہ انصاف نہیں ہے۔

یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنے والد کے لیے آواز اٹھائیں، اور اسے اسی تناظر میں لینا چاہیے۔‘‘.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کے بیٹے تجزیہ کار سیاست میں پاکستان آ اپنے والد پی ٹی آئی ہے کہ وہ رہے ہیں والد کے کے لیے

پڑھیں:

پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔

پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔

 ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت