data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان پیپلز پارٹی نے صدر آصف علی زرداری کے استعفے سے متعلق گردش کرتی افواہوں کو صریحاً بے بنیاد اور سیاسی شرارت قرار دے کر دو ٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔

پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے ان خبروں کو منظم جھوٹ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری نہ صرف میدان چھوڑنے والے نہیں بلکہ وہ سیاسی تاریخ کے وہ کردار ہیں جنہوں نے بدترین حالات میں بھی جمہوریت کا علم بلند رکھا۔

شازیہ مری کے مطابق حالیہ دنوں میں صدر زرداری کے استعفے سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، ان کا حقیقت سے دُور کا بھی واسطہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے ہمیشہ آمریت، قید و بند اور انتقامی سیاست کا سامنا کیا لیکن کبھی پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لیا۔ صدر زرداری وہ واحد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے ایوانِ صدر کی طاقت کو ذاتی فائدے کے بجائے پارلیمان کے سپرد کر کے ایک نئی مثال قائم کی۔

انہوں نے کہا کہ ایسے سوالات اٹھانا خود آئینی نظام پر سوالیہ نشان ہے، کیونکہ موجودہ سیاسی بندوبست میں صدر کے استعفے کا کوئی آئینی یا عددی جواز موجود نہیں۔ پیپلز پارٹی اس وقت ملک کی تمام بڑی سیاسی اکائیوں سے تعاون میں ہے اور قومی سیاست میں متوازن کردار ادا کر رہی ہے۔

شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ صدر زرداری کی قیادت میں صوبائی خودمختاری جیسے اہم آئینی معاملات کو عملی جامہ پہنایا گیا اور 18ویں آئینی ترمیم جیسے تاریخ ساز اقدامات انہی کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھے۔

دوسری جانب پارٹی کی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے بھی ان افواہوں پر شدید ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کو ہٹانے کی باتیں محض سیاسی چالیں ہیں، جن کا مقصد جمہوریت کو کمزور کرنا اور پارلیمانی نظام پر سوالات کھڑے کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ افواہیں ایک مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں جو ہر بار جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ صدر زرداری نہ صرف سیاسی استحکام کی علامت ہیں بلکہ وہ آئینی تسلسل کے ضامن بھی ہیں۔ ان کی موجودگی اتحادی حکومت کے اندر توازن برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے اور وہ پارلیمانی نظام کے محافظ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب نے ہر مشکل وقت میں جمہوری اقدار کی حفاظت کی، چاہے وہ جنرل مشرف کا دور ہو یا موجودہ سیاسی خلفشار۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر آصف زرداری پاکستان کی تاریخ کے پہلے ایسے سویلین صدر ہوں گے جو اپنی دونوں آئینی مدتیں مکمل کریں گے۔ ان کی قیادت میں پارلیمان کو جو اختیارات منتقل کیے گئے، وہ کسی فرد واحد کی عظمت کا نہیں بلکہ جمہوری نظام کی کامیابی کا اظہار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ شازیہ مری کے استعفے کہ صدر

پڑھیں:

ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ

جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس

عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان