مادرِ ملت فاطمہ جناح: وقار، وفا اور عزم کی تابندہ علامت
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
محترمہ فاطمہ جناح، وہ نام جو محض قائداعظم کی ہمشیرہ ہی نہیں، بلکہ پاکستان کے سیاسی، فکری اور اخلاقی سفر کی روشن ترین مثال بن کر ابھرا۔ وہی فاطمہ جناح، جنہیں قوم نے مادرِ ملت کا عظیم لقب عطا کیا، جنہوں نے اپنی نجی زندگی کو قومی مفاد پر قربان کرکے تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے رقم کیا۔
31 جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہونے والی فاطمہ جناح نے کم سنی میں ماں کی شفقت سے محروم ہوکر ایک مضبوط اور باوقار شخصیت کی بنیاد رکھی۔ قائداعظم محمد علی جناح اس وقت اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن میں تھے۔ بڑی بہن نے پرورش کی ذمہ داری سنبھالی، مگر جیسے ہی محمد علی واپس آئے، فاطمہ کے لیے زندگی ایک نئے سفر پر روانہ ہو گئی۔ ایک ایسا سفر جو اُنہیں محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک نظریے کی ساتھی اور مستقبل کی مادرِ ملت بنا گیا۔
ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، پھر انگریزی تعلیم کے لیے داخلہ لیا تو خاندان کی مخالفت کا سامنا کیا، مگر بھائی کے حوصلے اور اپنی استقامت سے آگے بڑھتی گئیں۔ محمد علی جناح کی مدبرانہ تربیت نے فاطمہ جناح کی شخصیت کو نکھار دیا۔ وہ نظم و ضبط، سچائی، اخلاق اور علم دوستی میں نمایاں رہیں۔ 1913 میں سینئر کیمبرج کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور پھر کلکتہ کے ڈینٹل کالج سے 1922 میں دندان سازی کی تعلیم مکمل کی۔
مزید پڑھیں: فاطمہ جناح کی تقریر اور کتاب کس نے سنسر کی؟
محمد علی جناح کی زندگی میں فاطمہ جناح کی موجودگی محض خاندانی نہیں بلکہ انقلابی تھی۔ جب رتی جناح کا انتقال ہوا، فاطمہ بھائی کا سہارا بن گئیں۔ وہ صرف ان کی بہن نہ تھیں بلکہ روحانی طاقت، فکری ساتھی اور سیاسی مشیر بھی تھیں۔ قائداعظم نے انہیں جنرل کونسل کہا، کیونکہ ہر اہم فیصلہ اُن کی رائے کے بغیر مکمل نہ ہوتا۔
1935 میں قائداعظم کے ساتھ سیاسی عمل کا باقاعدہ آغاز کیا۔ مسلم خواتین کو جگانے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کے خطاب عوامی بیداری کے استعارے بن گئے۔ مسلم لیگ کے جلسوں میں پیش پیش رہیں۔ خواتین کو تعلیم، خود مختاری اور سیاسی شعور کے اسباق دیے۔ انھیں بتایا کہ قوموں کی تقدیر اُس وقت سنورتی ہے جب ان کی بیٹیاں بھی فکر، علم اور قیادت کے میدان میں قدم رکھتی ہیں۔
برصغیر کے طول و عرض میں قائداعظم کے ساتھ دورے کیے۔ مسلم خواتین کے ذہنوں میں امید، یقین اور مقصد کا چراغ روشن کیا۔ مسلم لیگ کی رکن رہیں، خواتین ونگ کو منظم کیا۔ ان کے خطابات، مینابازار کے افتتاح، طالبات کی رہنمائی اور سیاسی تنظیموں میں شرکت، یہ سب تحریکِ پاکستان کے اہم گوشے ہیں جن کے بغیر تاریخ ادھوری ہے۔
قائداعظم خود فرماتے تھے کہ فاطمہ نہ صرف میری حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ میرے بیانات میں اس کی رائے ہمیشہ شامل ہوتی ہے۔ وہ اُن کی رازدار، ہمراز، مشیر اور مشن کی محافظ تھیں۔ وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں بھی برادر کے ساتھ رہیں۔ ان کا اخلاص، استقامت اور ایثار ناقابلِ فراموش ہے۔
مزید پڑھیں: فاطمہ جناح کی وصیت کے مطابق موہٹہ پیلس کو گرلز ڈینٹل کالج بنانا قرار پا گیا
فاطمہ جناح نے ہمیشہ خواتین کو باور کرایا کہ قوم کی تعمیر میں اُن کا کردار مردوں سے کم نہیں۔ وہ تعلیم نسواں، بالغ تعلیم، معاشی خود کفالت اور سیاسی شرکت کی داعی تھیں۔ ان کی تقاریر آج بھی ہمارے لیے نسخۂ کیمیا ہیں۔
محترمہ فاطمہ جناح 9 جولائی 1967 کو 73 برس کی عمر میں کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ حالت میں پائی گئیں۔ آپ کا مرقد قائداعظم کے مزار کے احاطے میں ہے، پاکستانی قوم ان کی لازوال خدمات پر انہیں آج بھی سلام پیش کرتی ہے۔
فاطمہ جناح صرف ایک فرد نہیں، ایک ادارہ تھیں۔ اُنہوں نے تاریخ کے ہر دور میں خواتین کو آواز، حیثیت اور وقار دیا۔ آج جب ہم سیاسی اضطراب، اخلاقی زوال اور فکری پسماندگی کے دور میں ہیں، تو مادرِ ملت کی زندگی ایک عہدِ نو کی نوید دے سکتی ہے شرط صرف یہ ہے کہ ہم اُن کے جذبے کو اپنائیں، اُن کی جدوجہد کو اپنی راہ کا چراغ بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 جولائی قائداعظم مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 9 جولائی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح فاطمہ جناح کی اور سیاسی خواتین کو محمد علی کے لیے
پڑھیں:
کراچی، بزم خادمان اہلبیتؑ کے تحت ایام فاطمیہ کی مناسبت سے دلسوز منظر کشی، ویڈیو
اسلام ٹائمز: منظر کشی کے دوران بیت سیدہ فاطمہ زہراء (س)، شہادت بی بی سیدہ (س) سے متعلق واقعات، بیت الحزن، جناب سیدہ (س) کے باغ فدک، مدینہ منورہ، روضہ رسول خدا (ص)، جنت البقیع، میدان کربلا معلیٰ و دیگر متعلقہ موضوعات کی مناسبت سے ماڈلز بنائے گئے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: سید ظفر جعفری
شہر قائد کے علاقے نیو رضویہ سوسائٹی میں بزم خادمان اہلبیتؑ کے زیر اہتمام مسجد و امام بارگاہ سامرہ میں ایام شہادتِ حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت سے دلسوز منظر کشی کی گئی۔ اس موقع پر بیت سیدہ فاطمہ زہراء (س)، شہادت بی بی سیدہ (س) سے متعلق واقعات، بیت الحزن، جناب سیدہ (س) کے باغ فدک، مدینہ منورہ، روضہ رسول خدا (ص)، جنت البقیع، میدان کربلا معلیٰ و دیگر متعلقہ موضوعات کی مناسبت سے ماڈلز بنائے گئے۔ دلسوز منظر کشی کا بڑی تعداد میں عزاداران بی بی سیدہ (س) نے دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بی بی سیدہ فاطمہ الزہرا (س) کے اقوال کے ذریعے متعلقہ واقعات کی اہمیت اور کی تاریخ سے گہری آگہی کی ضرورت پر زور دیا۔ دورہ کرنے والی خواتین و مرد حضرات نے منظر کشی کے اہتمام سے متعلق کاوشوں کو سراہا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial