بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کی سطح پر مادری زبانوں کے تحفظ اور ترویج سے متعلق شدید خدشات نے سر اٹھا لیا ہے۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے یونیورسٹی آف بلوچستان کے پشتو، بلوچی اور براہوی شعبوں کو یکجا کر کے ’انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز اینڈ لٹریچر‘ میں ضم کرنے کے مجوزہ منصوبے پر صوبے بھر میں تشویش اور مخالفت کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی میں دنیا کا واحد براہوی شعبہ بھی قائم ہے، جس کی ممکنہ بندش یا انضمام پر نہ صرف اساتذہ اور طلبہ پریشان ہیں بلکہ علمی اور ادبی حلقے بھی اسے مادری زبانوں کی شناخت اور ان کے علمی فروغ کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی کے طلبہ کا کہنا ہے کہ ان شعبوں کو یکجا کرنا ان کی زبانوں کی شناخت مٹانے کے مترادف ہے اور اس سے مقامی زبانوں میں تحقیق اور تعلیم کا عمل متاثر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی علاقہ جات کی زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے تقریب کا انعقاد

جامعہ بلوچستان کے اساتذہ، پروفیسرز اور تعلیم دوست حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان زبانوں کے شعبے ختم کرنے یا ضم کرنے کے بجائے انہیں مزید فروغ دیا جائے تاکہ مادری زبانوں کے ذریعے صوبے کی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔

اس تنازع پر نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی شدید ردعمل دیا ہے۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت بلوچستان نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر کو تحریری طور پر ہدایت دی ہے کہ پشتو، بلوچی اور براہوی شعبوں کو ملا کر ایک ادارے میں ضم کیا جائے۔ انہوں نے اس فیصلے کو مقامی زبانوں اور قوموں کے خلاف سازش قرار دیا اور کہاکہ محض مالی نقصان کے نام پر اگر یہ شعبے ختم کیے جا رہے ہیں تو پورا ملک خسارے میں ہے، اس کا کیا کیا جائے گا؟

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہاکہ جب بلوچی زبان سویڈن میں پڑھائی جا رہی ہے تو بلوچستان میں اسے بند کرنا ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو مادری زبانوں کے قتل سے تعبیر کیا اور واضح کیاکہ ان کی جماعت اس حکومتی اقدام کے خلاف ہر ممکن جمہوری جدوجہد کرے گی۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور پشتونخوا نیشنل پارٹی نے بھی اس حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس اقدام کو فی الفور واپس لیا جائے۔

دوسری جانب گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے گیارہویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس مسئلے پر بھی گفتگو کی۔ گورنر نے اس بات کا اعتراف کیاکہ یونیورسٹی کے بعض ڈیپارٹمنٹس خاص طور پر زبانوں کے شعبوں میں اساتذہ کی تعداد طلبہ سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے مالی بوجھ بڑھ رہا ہے اور اس کے لیے ایک پائیدار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ منصوبہ ایسا ہونا چاہیے جو غیر ضروری اخراجات کم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی زبانوں کی ترقی اور ترویج کو بھی یقینی بنائے۔

گورنر بلوچستان نے مزید کہا کہ صوبے کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ وہ محض تعلیم دینے کے بجائے جدید تحقیق کے مراکز کے طور پر اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے وائس چانسلرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اداروں کے لیے واضح ریسرچ ایجنڈا تشکیل دیں، تحقیق کے لیے فنڈ مختص کریں اور اس کی رپورٹ چانسلر آفس میں جمع کرائیں تاکہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں تحقیق اور علم کی نئی راہیں کھلیں۔

یہ بھی پڑھیں: میری مادری زبان اردو نہیں انگریزی ہے، اداکارہ سلمیٰ حسن کا انکشاف

بلوچستان میں مقامی زبانوں کے تحفظ اور ترویج کے حوالے سے یہ معاملہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کی پالیسی، ثقافتی شناخت اور سماجی ہم آہنگی سے جڑا ہوا حساس موضوع بنتا جا رہا ہے، جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی گہری نظر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان یونیورسٹی شدید تشویش شعبوں کا انضمام مادری زبانیں وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان یونیورسٹی شدید تشویش شعبوں کا انضمام وی نیوز مادری زبانوں کے بلوچستان کے انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

 صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات

 ویب ڈیسک: صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 

 صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔ 

 صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔

ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔  
 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت