بیٹوں کی گرفتاری سے متعلق رانا ثنااللہ کے بیان پر جمائما خان کا سخت پیغام
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ بیٹوں کی گرفتاری سے متعلق بیان پر بول اٹھیں۔
سماجی رابطوں کی سایٹ ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میرے بچوں کو ان کے والد سے فون پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ عمران خان تقریباً 2 سال سے جیل میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے اب یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹے اُن سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں تو اُنہیں بھی گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بیٹے پاکستان آئے تو ان کا کیا انجام ہوگا؟ رانا ثنااللہ نے خبردار کردیا
جمائمہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسا کسی جمہوریت یا فعال ریاست میں نہیں ہوتا۔ یہ سیاست نہیں ہے، یہ ذاتی انتقام ہے۔
My children are not allowed to speak on the phone to their father @ImranKhanPTI.
Pakistan’s government has now said if they go there to try to see him, they too will be arrested and put behind bars.
This doesn’t… https://t.co/ccM7QFPmlV pic.twitter.com/z2v6PKgHto
— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) July 10, 2025
واضح رہے کہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ اگر عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان آ کر پی ٹی آئی کی تحریک میں حصہ لیا تو وہ گرفتار ہوں گے اور پھر برطانیہ کی ایمبیسی ہی انہیں بازیاب کرائے گی۔
سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان نے ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلمان پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی پی ٹی آئی تحریک جمائمہ عمران خان عمران خان بیٹے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی تحریک عمران خان بیٹے عمران خان کے پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔