کشمیریوں کو بے گھر کر کے شناخت اور زندگی چھینی جا رہی ہے، مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
کشمیریوں کو بے گھر کر کے شناخت اور زندگی چھینی جا رہی ہے، مشعال ملک WhatsAppFacebookTwitter 0 27 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ ہندوستان کے کالے قوانین کے تحت کشمیریوں پر ظلم اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ کشمیریوں سے زندگی اور شناخت چھینی جا رہی ہے۔
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کو انصاف کا کوئی موقع دیئے بغیر ان کی چھت تک چھین لی گئی۔ اور حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دبانے کے لیے زنجیروں اور بندوقوں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہائیوں کی قربانیوں کے باوجود دنیا کشمیریوں کے درد پر خاموش ہے۔ جبکہ ہندوستان نے کشمیریوں کے کاروبار، زمینیں اور دریا تک ہتھیانے شروع کر دیئے ہیں۔ اقوام متحدہ کو اب جاگنا ہو گا ورنہ تاریخ خاموشی کی سزا دے گی۔
مشعال ملک نے کہا کہ شہادتیں، جیلیں اور بربادی کشمیریوں کا مقدر بنا دی گئی۔ اور جب آخری پناہ گاہ بھی چھن جائے تو مظلوم کی فریاد عرش کو ہلا دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے درد کو دبانے کے لیے انسانیت کو پامال کیا جا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفرخ خان کا نائجیرین ہائی کمیشن کا دورہ، سابق صدر محمد بوہاری کے انتقال پر تعزیت فرخ خان کا نائجیرین ہائی کمیشن کا دورہ، سابق صدر محمد بوہاری کے انتقال پر تعزیت پاکستان نے تعلیم کے میدان میں دنیا میں نئی تاریخ رقم کرلی پی سی ایس آئی آر کمپلیکس لاہور کیخلاف الزامات: تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر لانے کا اعلان زائرین کےلیے بذریعہ سڑک ایران اور عراق جانے پر پابندی عائد اسلام آباد: گدھے کے گوشت کی برآمدگی کا مقدمہ درج راولپنڈی میں خاتون کے قتل کا معاملہ، مقتولہ کے سسر کا بیان سامنے آگیا، تہلکہ خیز انکشافاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشعال ملک کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔