کراچی: خوفناک آتشزدگی سے گارمنٹس فیکٹری کی عمارت زمین بوس، 4 ریسکیو اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کراچی میں گارمنٹس فیکٹری میں خوفناک آگ بجھانے کے دوران 3 منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی جب کہ ملبے تلے دب کر ریسکیو اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق نیو کراچی سیکٹر 8 اے میں گارمنٹس فیکٹری میں صبح 6 کے قریب آگ بھڑک اٹھی، واقعے کی اطلاع ملتے ہی محکمہ فائر بریگیڈ کی 2 گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور آگ کی شدت میں اضافے کے بعد مزید گاڑیوں کو طلب کرلیا گیا۔
ترجمان فائر بریگیڈ نے کہا کہ آگ کی شدت بہت زیادہ ہے، آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، 10 فائر ٹینڈرز اور اسنارکل آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
فائربریگیڈ حکام نے بتایا کہ پانی اور فوم کی مدد سے فائر فائٹنگ کا عمل جاری ہے، 3 منزلہ فیکٹری کے اندر کوئی شخص موجود نہیں، آگ گراؤنڈ فلور پر لگی، شدت برقرار ہے۔
چیف فائر افسر ہمایوں خان نے کہا کہ فائر بریگیڈ کی مزید گاڑیاں بھی روانہ کی گئی ہیں، ریسکیو آپریشن میں کے ایم سی کی 8 فائر ٹینڈر، 2 باؤزر، 1 اسنارکل اور ریسکیو 1122 کے 5 فائر ٹرک اور 1 ایمبولینس حصہ لے رہی ہے، آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کے دوران اس کی شدت سےعمارت منہدم ہوگئی، عمارت کے ملبے سے زخمیوں کو نکال کر اسپتال منتقل کردیا گیا، عمارت میں فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکار موجود تھے۔
کے ایم سی کے 4 فائر فائٹرز زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا، فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ ملبے میں مزید کسی فائر فائٹر یا ریسکیو ورکر کے دبے ہونے کی اطلاع نہیں، احتیاطاً ملبے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیا جارہا ہے۔
آگ نے متاثرہ فیکٹری سے متصل دو فیکٹریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، فائر بریگیڈ حکام
نے کہا کہ 11 فائر ٹینڈرز اور اسنارکل کی مدد سے آگ بجھانے کا عمل جاری ہے۔
7 اگست کو لانڈھی ایکسپورٹ پروسسنگ زون میں آگ لگنے سے 5 منزلہ فیکٹری ملبے کا ڈھیربن گئی تھی، واقعے میں 7 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ آتشزدگی سے متصل 4 فیکٹریاں بھی متاثر ہوئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فائر بریگیڈ ریسکیو ا
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔