مظفرآباد: شہری آبادی میں گھسنے والا تیندوا 2 روز بعد قابو کر لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں شہری آبادی میں گھس آنے والا تیندوا بالآخر 2 روز کی کوششوں کے بعد پکڑ لیا گیا۔
سوموار کے روز تیندوے کے اچانک شہر میں داخل ہونے سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق تیندوا سب سے پہلے پوش علاقے سینٹر پلیٹ میں واقع جناح ڈینٹل اسپتال کے احاطے میں دیکھا گیا، جس کے بعد وہ مختلف مقامات پر نمودار ہوتا رہا۔
مزید پڑھیں: تیندوا شہری آبادی میں داخل، مظفرآباد میں خوف و ہراس
اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو 1122 اور محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور فوری سرچ آپریشن شروع کیا۔ تیندوا بار بار ریسکیو ٹیموں کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوتا رہا جس سے شہریوں میں مزید بے چینی پیدا ہوئی۔
2 روز تک جاری سرچ آپریشن میں پولیس اور وائلڈ لائف اہلکاروں کے ساتھ مقامی رضاکار بھی شریک رہے۔ حکام کے مطابق تیندوے کو بالآخر بحفاظت قابو کر لیا گیا تاکہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ نہ رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تیندوا ریسکیو 1122 محکمہ وائلڈ لائف مظفرآباد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیندوا ریسکیو 1122 محکمہ وائلڈ لائف
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔