تیندوا شہری آبادی میں داخل، مظفرآباد میں خوف و ہراس
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد اور گردونواح میں تیندوؤں کی آبادی میں اضافہ شہریوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجانے لگا ہے۔
پیر کے روز ایک تیندوے کا بچہ اچانک شہری آبادی میں گھس آیا جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر سے ریسکیو کی گئی زخمی مادہ تیندوا جاں بر نہ ہوسکی
عینی شاہدین کے مطابق تیندوا سب سے پہلے شہر کے پوش علاقے سینٹر پلیٹ میں واقع جناح ڈینٹل اسپتال کے احاطے میں دیکھا گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو 1122 اور محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور پر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا۔
تیندوا کئی گھنٹوں تک مختلف مقامات پر نظر آتا رہا اور ریسکیو ٹیموں کو متعدد بار چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
مزید پڑھیں: ہری پور: تیندوا آبادی میں گھس آیا، 4 بکریاں مار ڈالیں، علاقے میں خوف و ہراس
سرچ آپریشن میں پولیس اور وائلڈ لائف اہلکاروں کے ساتھ ساتھ مقامی رضاکار بھی شریک ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تیندوا کو بحفاظت قابو کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر تیندوا جناح ڈینٹل اسپتال سرچ آپریشن سینٹر پلیٹ مظفرآباد وائلڈ لائف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تیندوا جناح ڈینٹل اسپتال سینٹر پلیٹ وائلڈ لائف
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔