کراچی میں پٹاخوں کے گودام میں دھماکا؛ جاں بحق شخص کی بیوہ نے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
کراچی:
ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے گودام میں دھماکے سے جاں بحق ہونے والے میڈیکل لیب کے مالک کی بیوی نے سینئر سول جج جنوبی کی عدالت میں گودام مالکان کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔
متوفی کی بیوہ عظمیٰ شہزاد نے سندھ حکومت اور فیکٹری مالکان سے 6 کروڑ 45 لاکھ روپے ہرجانہ مانگ لیا۔
عثمان فاروق ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر دعوے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ فیکٹری مالکان اور سندھ حکومت کیخلاف جان لیوا حادثات ایکٹ کے تحت دعویٰ دائر کیا گیا۔ 21 اگست کو ایم اے جناح روڈ پر پٹاخوں کے غیر قانونی گودام میں دھماکا ہوا۔
دھماکے کے نتیجے میں درخواستگزار کے شوہر شہزاد علی جاں بحق ہوگئے تھے۔ فیکٹری اور گودام مالکان کی غفلت کے باعث درخواستگزار کے شوہر جاں بحق ہوئے۔ متوفی شہزاد علی کی گودام کے قریب میڈیکل مارکیٹ میں لیب تھی۔ دھماکے کے مقدمے کے اندراج کے باوجود تاحال فیکٹری منتقل نہیں گئی ہے۔
درخواست کے مطابق حادثے کے ذمہ دار فیکٹری مالکان اور سندھ حکومت ہے۔ حادثے کے ذمے داران ہرجانے کی مد میں 6 کروڑ 45 لاکھ روپے ادا کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔