پنجاب حکومت نے جی ایچ کیو حملے کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
لاہور(ویب ڈیسک) پنجاب حکومت نے جی ایچ کیو حملے کیس کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔
ذرائع کے مطابق جی ایچ کیو حملہ کیس اور 9 مئی مقدمات کا ٹرائل اب اڈیالہ جیل کے بجائے انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں ہی ہو گا۔
اس حوالے سے ذرائع کا بتانا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ضرورت کے مطابق ویڈیو لنک پر پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق جی ایچ کیو حملہ کیس اور دیگر مقدمات کے باقی ملزمان اے ٹی سی راولپنڈی میں پیش ہوں گے۔
پنجاب حکومت کے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں: وکیل فیصل ملک
انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے کہا ہے کہ آج 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت تھی، جی ایچ کیو حملہ کیس سمیت دیگر مقدمات کی سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی ہو گئی۔
وکیل فیصل ملک نے کہا ہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں عدالت نے بتایا کہ ایک نوٹیفکیشن آرہا ہے، ہمیں بتایا گیا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس جیل سے دوبارہ اے ٹی سی راولپنڈی میں آرہا ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
فیصل ملک نے مزید کہا ہے کہ ہم عدالت میں درخواست دے رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت میں پیش کیا جائے، ہم پنجاب حکومت کے ایسے نوٹیفکیشن کو مسترد کرتے ہیں۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جی ایچ کیو حملہ کیس بانی پی ٹی ا ئی پنجاب حکومت فیصل ملک
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔