راولپنڈی، جی ایچ کیو حملہ سمیت 9 مئی کے 12 اہم مقدمات کی سماعت آج ہو گی
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی میں 9 مئی کے سانحہ سے متعلق اہم مقدمات کی سماعت آج ضلع کچہری میں انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوگی۔
عدالت نے جی ایچ کیو حملہ سمیت 12 مقدمات کی سماعت مقرر کی ہے، تاہم آج بھی جیل ٹرائل نہیں کیا جائے گا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ ان مقدمات کی سماعت کریں گے۔ جی ایچ کیو حملہ کیس گزشتہ تین ماہ سے جیل ٹرائل میں التواء کا شکار ہے۔
اس مقدمے میں 119 گواہان نامزد ہیں جن میں سے اب تک 27 کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جب کہ آج مزید 3 گواہوں کو طلب کیا گیا ہے۔
9 مئی کے دیگر 11 مقدمات میں چالان کی نقول کی تقسیم کا عمل بھی مکمل کیا جائے گا۔ شامل مقدمات میں جی ایچ کیو گیٹ 4 حملہ، آرمی میوزیم پر حملہ، صدر حساس عمارت کو جلانے اور میٹرو بس اسٹیشن کو نذر آتش کرنے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔
آج کی سماعت کے دوران سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد بھی عدالت میں پیش ہوں گے، جبکہ عدالت نے عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل اور شوزب کنول کو گرفتار کر کے پیش کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔
کچہری میں ممکنہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر پولیس کی جانب سے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ عدالت کے اطراف میں نفری میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقدمات کی سماعت جی ایچ کیو
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔