ٹنڈوآدم ،جعلی چیک دینے کے الزام میں ضمانت کی درخواستیں رد
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250916-11-9
ٹنڈوآدم( نمائندہ جسارت)ٹنڈوآدم عدالت نے جعلی چیک دینے کے الزام میں دو علیحدہ علیحدہ مقدمات میں ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں رد کردیں۔ تفصیلات کے مطابق ٹنڈوآدم کے سول جج اینڈ جوڈیشنل مجسٹریٹ وقاص احمد قریشی کی عدالت نے 1350000 کا جعلی چیک دینے کے کیس میں نامزد ملزم عارف قادری کی ضمانت کی درخواست رد کردی واضح رہے کہ مذکورہ ملزم پر ریٹائر فوجی کی جانب سے فراڈ کے ذریعے کسی دوسری خاتون کا پلاٹ کو فروخت کرنے کے بعدپیسوں کی واپسی کے لئے دی گئی جس کا جعلی چیک کا مقدمہ سٹی تھانے پر گناہ نمبر 161/225داخل کیا گیا ملزم جیل میں قید کرلیا گیاجبکہ اس عدالت نے ملزم اسد چندریگر کے 70 لسکھ کے پانچ جعلی چیک دینے کے مقدمہ میں بھی عدالت کی جانب سے ضمانت ردکردی گئی جبکہ فریادی عبدالرزاق پٹھان نے سٹی تھانے پر گناہ نمبر 184/2025 کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا جسے پولیس نے حیدرآباد سے حراست میں لیا تھاجو کہ جیل میں پہلے سے موجود ہے۔ علاوہ ازیں جج نے سرکاری وکیل طارق عزیز غوری اور فریادیوں کے وکیلوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزمان کی ضمانت کی درخواست رد کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جعلی چیک دینے کے عدالت نے ٹنڈوا دم ضمانت کی
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔