عدالت عظمیٰ نے ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کو تاحیات سکیورٹی دینے کا حکم واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : عدالت عظمیٰ نے ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کو تاحیات سیکورٹی دینے کا حکم واپس لے لیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ ریٹائرڈ ججز کو تاحیات سیکورٹی کا حق 2018 کے صدارتی آرڈر نمبر7 میں دیا گیا ہے،تاہم آرڈر نمبر 7 ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کو تاحیات سکیورٹی کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ اس لیے ریٹائرڈ ججز کی بیواؤں کو تاحیات سیکورٹی کی حد تک آرڈر واپس لیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے چیف جسٹس پاکستان کی منظوری سے وزارت داخلہ کو ریٹائرڈ ججز کی سیکورٹی کے حوالے سے باضابطہ خط ارسال کیا۔
خط میں کہا گیا کہ ملک کی موجودہ سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر ہر ریٹائرڈ جج کو 3 پولیس اہلکاروں پر مشتمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔
خط میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو ججز انتقال کر چکے ہیں ان کی بیواؤں کو بھی 3 پولیس اہلکاروں کی سیکورٹی مہیا کی جائے تاکہ ان کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔