جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل نوٹی فکیشن منسوخ، عمران خان ویڈیو لنک پر پیش ہونگے
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
حکومت پنجاب نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا۔
جی ایچ کیو حملہ کیس کی آئندہ سماعت یکم اکتوبر کو ہوگی، بانی پی ٹی آئی عمران خان ویڈیو لنک پر شریک ہوں گے۔
سانحہ 9 مئی کے تمام 12 مقدمات کی سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی گئی، عدالت نے یکم اکتوبر کو جیل میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی شرکت کیلئے وڈیو لنک انتظامات کا حکم دے دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کی، جی ایچ کیو حملہ کیس میں یکم اکتوبر کیلئے 3 گواہان کی طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے، عدالت نے کہا کہ تینوں گواہان کی عدالت میں پیشی یقینی بنائی جائے۔
عدالت نے کہا کہ نو مئی کے 11 مقدمات میں یکم اکتوبر کو بانی چیئرمین پی ٹی آئی میں چالان کی نقول تقسیم ہونگی۔
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی لاہور جیل سے ویڈیو لنک پر شریک ہونگے، ۔جی ایچ کیو حملہ کیس جیل ٹرائل 3 ماہ سے لٹکا ہوا تھا۔
آئندہ تاریخ یکم اکتوبر کو تمام ملزمان کے سمن طلبی جاری کردیے گئے اور تمام ملزمان کو یکم اکتوبر کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور پور کو بھی سمن جاری کردیا گیا، عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، کنول شوزب وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود پیش نہیں ہوئے، فیصل آباد کورٹ سزاؤں پر عدالت نے 14 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔
عمر ایوب، شبلی فراز، کنول شوزب، زرتاج گل کو اشتہاری ملزمان قرار دینے کی قانونی کارروائی شروع کردی گئی۔
ہوم ڈیپارٹمنٹ کا جی ایچ کیو جیل ٹرائل منسوخی کا نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کر دیا گیا، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے ہوم ڈیپارٹمنٹ نوٹیفیکیشن دینے کی درخواست دے دی۔
سرکاری پراسیکیوٹر اکرام آمین منہاس نے نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کیا، جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت جمعہ 19 ستمبر تک ملتوی کردی گئی، سانحہ 9 مئی کے دیگر 11 کیسز میں سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جی ایچ کیو حملہ کیس جیل ٹرائل پی ٹی آئی عدالت نے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔