82 سالہ امیتابھ بچن 75 فیصد ناکارہ جگر کے باوجود موت کو کیسے شکست دے رہے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
بالی ووڈ کے شہنشاہ اور مداحوں کے دلوں پر راج کرنے والے امیتابھ بچن کی زندگی خود ایک عزم و عمل کی شاندار کہانی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 82 سالہ اداکار اس وقت محض 25 فیصد فعال جگر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ مسئلہ اُس وقت شروع ہوا جب 1982ء میں فلم قُلی کی شوٹنگ میں فائٹنگ سین کے دوران خطرناک چوٹ لگی تھی اور ادکار کئی ماہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے تھے۔
اس حادثے کے بعد امیتابھ کو خون کی منتقلی کی ضرورت پیش آئی تھی اور اسی دوران وہ ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہوگئے تھے۔
تاہم امیتابھ بچن کو اس کا علم 2005 بعد ہوا اور تب تک یہ بیماری ان کے جگر کو بری طرح متاثر کر چکی تھی۔
اس کے باوجود امیتابھ بچن نے اپنی صحت کو سنبھالا اور آج بھی سخت نظم وضبط، مثبت سوچ اور متوازن طرزِ زندگی کے ذریعے معمولاتِ زندگی انجام دے رہے ہیں۔
اداکار امیتابھ بچن نہ صرف فلموں اور ٹی وی پر فعال ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی مداحوں سے بھرپور رابطے میں رہتے ہیں۔
امیتابھ بچن اکثر کہتے ہیں کہ ’’جب تک زندگی ہے، جہدوجہد جاری رہے گی‘‘ اور ان کا یہ عزم لاکھوں لوگوں کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امیتابھ بچن
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔