بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے، حریت کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ترجمان حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت مکانوں، زمینوں اور دیگر املاک کو ضبط کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بی جے پی حکومت کی بھارتی حکومت کی طرف سے علاقے میں مسلمانوں کی املاک کی مسلسل ضبطگی اور جبر و استبداد کی دیگر کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ مودی حکومت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں فرقہ پرست اور بدعنوان انتظامیہ بھارتی وزارت داخلہ کے احکامات پر کشمیریوں کے خلاف کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت مکانوں، زمینوں اور دیگر املاک کو ضبط کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں، اختلاف رائے رکھنے والوں کو کالے قوانین کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اس طرح کے ہتھکنڈے کشمیری عوام کے آزادی کے جذبات کو کچلنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔
حریت ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز محمد اکبر، شاہد الاسلام، معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ، فاروق احمد ڈار، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر احمد عرفانی، بلال احمد صدیقی، امیر حمزہ اور جیلوں میں بند دیگر ہزاروں کشمیری رہنماﺅں اور کارکنوںکی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کیے بغیر خطے میں دیرپا امن و ترقی کا خواب ہرگز شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، کشمیری اس تنازعے کے حل کے لیے اپنی منصفانہ جدوجہد جاری رکھیں گے، بھارت کو چاہیے کہ وہ ہٹ دھرمی کا راستہ ترک کر کے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حریت کانفرنس نے کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔