نیویارک (اسپورٹس ڈیسک) ہسپانوی ٹینس اسٹار کارلوس الکاریز اور بیلاروس سے تعلق رکھنے والی ارینا سبالنکا کی یو ایس اوپن جیتنے پر حاصل انعامی رقم میں بڑی کٹوتی ہوگئی۔ دونوں کھلاڑیوں کو 5، 5 ملین ڈالرز ملنے تھے، مگر امریکی ٹیکس قوانین کے تحت 2، 2 ملین ڈالرز کی کٹوتی کرلی گئی، یوں ہر کھلاڑی کو اصل میں 3 ملین ڈالرز ملیں گے۔

امریکی قوانین کے مطابق 6 لاکھ ڈالرز سے زائد آمدنی پر 37 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، اسی شرح کے تحت الکاریز اور سبالنکا کی انعامی رقم سے کٹوتی کی گئی۔ کوچز، ایجنٹس، سپورٹ اسٹاف اور سفری اخراجات کو بھی شامل کیا جائے تو ٹیکس کی مد میں یہ رقم تقریباً 2 ملین ڈالرز بنتی ہے۔

امریکا اور اسپین کے درمیان ٹیکس معاہدے کی وجہ سے الکاریز کو وطن واپسی پر اضافی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا، جبکہ سبالنکا نے بیلاروس کے بجائے میامی میں رہائش اختیار کر رکھی ہے، اس لیے انہیں بھی مزید ٹیکس نہیں دینا ہوگا۔

چھٹا گرینڈ سلم ٹائٹل جیتنے والے کارلوس الکاریز کی مجموعی کیریئر آمدنی 53.

5 ملین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ارینا سبالنکا ویمنز ٹینس میں سب سے زیادہ کمانے والی کھلاڑیوں میں چوتھے نمبر پر ہیں اور ان کی آمدنی 42.3 ملین ڈالرز ہے۔

ٹاپ ٹینس پلیئرز سمیت دیگر کھیلوں کے کئی کھلاڑی ٹیکس فری ممالک جیسے مناکو اور بہاماس میں رہائش کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ان کی آمدنی پر بھاری کٹوتی نہ ہو۔

Post Views: 5

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ملین ڈالرز

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان