سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کے حلف کے لئے اجلاس بلانے سے معذرت
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسلام آباد: خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی صوبائی اسمبلی کی خواتین اور اقلیتی ارکان کے حلف کے لئے اسمبلی کا اجلاس بلانے سے معذرت کر لی ہے جس کے بعد (ن) لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر 21جولائی سے قبل حلف یقینی بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی ، (ن) لیگ ، جے یو آئی اور اے این پی کے پارلیمانی لیڈروں نے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد کے ہمراہ سپیکر بابر سلیم سواتی سے ملاقات کر کے اسمبلی کا اجلاس بلا کر مخصوص نشستوں سے منتخب ارکان سے حلف لینے کا مطالبہ کیا تھا جس پر سپیکر نے کہاکہ رولز کے تحت سپیکر سے ریکوزیشن پر ہی اسمبلی کا اجلاس بلا سکتا ہے اس کے علاوہ اجلاس بلانے کا اختیار سپیکر کے پاس نہیں ہے ، یہ اختیار حکومت اور گورنر کے پاس ہے ۔ وزیراعلیٰ کی سمری پر گورنر صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کر تا ہے ۔ سپیکر کے انکار کے بعد اپوزیشن نے مزید لائحہ عمل کے لئے آپس میں مشاورت کی جس کے بعد الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت منتخب ارکان کا حلف لیا جانا آئینی تقاضا ہے ۔ صوبائی حکومت اور سپیکر حلف لینے کے معاملے میں تاخیری حربے اختیار کر رہے ہیں ، لہذا الیکشن کمیشن ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے رابطہ کر کے ان سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ پشاور ہائی کورٹ کے کسی سینئر جج کو حلف کی ذمہ داری سونپیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کو الیکشن کمیشن حلف کے معاملے پر اجلاس منعقد کر کے کوئی حتمی فیصلہ کرے گا ۔ 21 جولائی کو الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا نے سینیٹ کی نشستوں پر الیکشن کرانے کا شیڈول جاری کر رکھا ہےاگر اس وقت تک حلف نہ ہوا تو سینیٹ کے الیکشن کا انعقاد مشکوک ہو جائے گا اور پھر اس میں تاخیر ہو سکتی ہے ۔ الیکشن کمیشن نے سپیکر بابر سلیم سواتی کو خط لکھ دیا ہے جس میں انہوں نے 21 جولائی کو سینیٹ کے الیکشن کے لئے اسمبلی حال کا کنٹرول الیکشن کمیشن کے سپرد کرنے کا کہہ دیا ہے ۔ مگر ابھی تک سپیکر نے الیکشن کمیشن کو کوئی حتمی جواب نہیں دیا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے سینیٹ الیکشن میں 4سے 5 نشستیں حاصل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے ، گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں متفقہ لائحہ عمل سے سینیٹ الیکشن لڑیں تو 5 نشستیں جیتی جاسکتی ہیں ۔ (ن) لیگ کے بعد پیپلزپارٹی کے ایک وفد نے بھی سید خورشید شاہ کی قیادت میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ہے اور سینیٹ کے الیکشن کے لئے مشترکہ لائحہ عمل پر مشاورت کی ہے ۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسمبلی کا اجلاس الیکشن کمیشن کے لئے ا کے بعد
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔