چین کا تائیوان کے عوامی نمائندوں کی ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں گومن دانگ پارٹی کی کامیابی پر رد عمل
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
بیجنگ : چینی اسٹیٹ کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کے ترجمان چھن بن ہوا نے 27 تاریخ کو تائیوان کے عوامی نمائندوں کی ” دی گریٹ ریکال ” یعنی نام نہاد “ایک عظیم برخاست” کے لئے ووٹنگ کی۔ اتوار کے روز چینی میڈیا کے مطابق ووٹنگ کے پہلے مرحلے کے نتائج کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے صورتحال کا نوٹس لیا ہے کہ گو من دانگ پارٹی نے تمام 24 نشستوں کا دفاع کامیابی کے ساتھ کیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ “تائیوان کی علیحدگی ” کی نوعیت اور “یک جماعتی غلبہ” کے عزائم کے پیش نظر ، ڈی پی پی حکام نے بار بار سیاسی لڑائیوں کو بھڑکایا ہے، سیاسی مخالفین کو دبایا ہے، “سبز دہشت “کا ماحول پیدا کیا ہے، اور سماجی تقسیم کو بڑھاوا دیا ہے، جس سے “جعلی جمہوریت اور حقیقی آمریت”کی منافقت مکمل طور پر بے نقاب ہو چکی ہے۔ ووٹنگ کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ڈی پی پی کی سیاسی جوڑ توڑ تائیوان کےعوام کی خواہش کے بالکل برعکس اور غیر مقبول ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔