data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان اسلام آباد سے نہیں بلکہ کشمیر سے ہی کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق بلاول نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے کشمیر کے عوام کی آواز رہی ہے اور عالمی سطح پر بھی کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کرتی آئی ہے،  بطور وزیرِ خارجہ انہوں نے کشمیری عوام کا مؤقف بین الاقوامی فورمز پر بھرپور انداز میں پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور کشمیر کی تاریخ گہرے تعلق کی عکاس ہے، آزاد کشمیر میں پارٹی کی جیت کو راتوں رات شکست میں تبدیل کیا گیا جس کے نتیجے میں سیاسی خلا پیدا ہوا۔ ان کے مطابق اس غیرسیاسی سوچ نے خطے میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم تین نسلوں سے کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور پیپلز پارٹی ہی واحد جماعت ہے جو کشمیری عوام کی حقیقی نمائندہ کہلا سکتی ہے، بانی پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں سب کا کردار قوم کے سامنے ہے، کشمیر کے عوام سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں انہیں مایوس نہیں کروں گا، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے بعد اس کی ذمہ داری میری ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہے اور اب یہ وقت ان کے لیے ایک امتحان ہے جس میں پارٹی اپنی سیاسی بصیرت اور عوامی اعتماد سے سرخرو ہوگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد خطے میں نئی سیاسی صف بندیاں تیز ہو گئی ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے کہا

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی