لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں جی سی یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج برائے خواتین یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو ماڈل تعلیمی ادارے بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ برطانیہ، کوریا اور قازقستان سمیت متعدد غیر ملکی یونیورسٹیوں نے پنجاب میں کیمپس بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف لندن، یونیورسٹی آفBRUNEL،یونیورسٹی آف GLOUCESTERSHIRE، یونیورسٹی آف LEICESTER اور دیگر یونیورسٹیوں نے پنجاب میں برانچ کیمپس کھولنے کی پیش کش کی ہے۔ پنجاب کے سرکاری کالجز میں بھی کالج مینجمنٹ کونسل قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں معیار تعلیم بلند کرنے کے لئے ’’کے پی آئی‘‘ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وائس چانسلر کی کارکردگی کو ’’کے پی آئی‘‘ کے معیار پر جانچا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے انڈر پرفارمنگ کالجز سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔ ایجوکیشن ویجی لینس سکواڈ قائم کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ ایجوکیشن ویجی لینس سکواڈ تعلیمی اداروں میں اچانک جاکر حاضری، صفائی، معیار تعلیم اور دیگر امور چیک کرے گا۔ منسٹر ایجوکیشن کی زیر نگرانی سکواڈ کی رپورٹ پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر معیار تعلیم کے لحاظ سے پنجاب کی یونیورسٹیوں کی گرین، بلیو، ییلو اور گرے رینکنگ مقرر کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔ سی ایم پنجاب ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ سکیم کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں کے 19ہزار سے زائد طلبہ وزیراعلیٰ پنجاب سکیم میں اپلائی کر چکے ہیں۔ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں معیار تعلیم اور ادارہ جاتی بہتری ترجیح قرار دی گئی۔ پبلک سیکٹریونیورسٹیوں میں گورننس ریفارمز اور ادارہ جاتی خودمختاری لانے کی تجویزکا بھی جائزہ لیا گیا۔ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں تدریسی معیار، اختراعی تحقیق اور تخلیقی علم پر زور دیا جائے گا۔ انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دینا ترجیحات میں شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یونیورسٹیوں میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور گلوبل روابط بھی ترجیحات میں شامل کرنے پر غور کیا گیا۔ پنجاب میں پہلی مرتبہ ہائر ایجوکیشن کانفرنس کے انعقاد کی اصولی منظوری دی گئی۔ و زیراعلیٰ نے پنجاب میں غیر فعال کامرس کالجز سے متعلق بھی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے میٹر ک کے سالانہ امتحانات 2025ء میں پنجاب بھر کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ اور حرم فاطمہ اور ہارون حامد کو پنجاب بھر میں میٹرک میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے فیصل آباد کے معیز قمر اور ساہیوال کے فیضان فرید اسرار کو صوبہ بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے راولپنڈی کے محمد عثمان، ننکانہ کے حاجی ابوذر تنویر، نورالہدیٰ اور ملتان کی حسنینہ فاطمہ کو تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے طالبات کی پوزیشن حاصل کرنے پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ طلبہ ہمارا فخر اور قوم کی شان ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ بیٹیوں نے میٹرک کے امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں لی ہیں۔ ’’ایکس‘‘ پر پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ دسویں جماعت کے امتحانات میں پنجاب بھر میں مشترکہ طور پر حرم فاطمہ (قصور) ایک سرکاری سکول ٹیچر کی قابل فخربیٹی نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ لودھراں کے ہارون حامد سرکاری کالج کے پروفیسر کے صاحبزادے ہیں۔ بچوں کی محنت اور لگن نے آج انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے، میں سب کو یقین دلاتی ہوں کہ امتحانات میں میرٹ کو ہمیشہ فروغ دیا جائے گا اور اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پوزیشن ہولڈرز ہی ہمارے وطن کا مستقبل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پنجاب کی یونیورسٹیوں پوزیشن حاصل کرنے یونیورسٹیوں میں یونیورسٹی ا ف معیار تعلیم کیا گیا

پڑھیں:

آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔

متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری