امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند اور مریخ کے درمیان بروقت رابطے اور نیویگیشن نظام کو یقینی بنانے کے لیے امریکی کمپنیوں سے تجاویز طلب کر لی ہیں۔

7 جولائی کو ناسا نے ایک “اعلیٰ بینڈوڈتھ، انتہائی قابلِ اعتماد مواصلاتی نظام” کے لیے باضابطہ طور پر تجاویز کی درخواست جاری کی، جس کا مقصد چاند و مریخ کی سطح اور زمین پر موجود رابطہ مراکز کے درمیان ایک مؤثر انفراسٹرکچر قائم کرنا ہے۔

ناسا کے اسپیس کمیونیکیشنز اینڈ نیویگیشن پروگرام کے نائب مینیجر گریگ ہیکلر کے مطابق یہ شراکت داریاں مواصلات اور نیویگیشن کے میدان میں اہم پیش رفت کو فروغ دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایجیکشن سسٹم ڈیزائن کریں، انعام پائیں‘، ناسا کا عوام کے لیے چیلنج

’یہ ہمارے خلا نوردوں، گاڑیوں، خلائی جہازوں اور تمام ناسا مشنز کو چاند، مریخ اور اس سے آگے انسانیت کی تلاش کو وسعت دینے کے قابل بناتی ہیں۔‘

یہ نیا مواصلاتی اور نیویگیشن نظام مستقبل میں ناسا اور نجی خلائی کمپنیوں کے لیے خلا میں سائنسی، تحقیقی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے ایک فعال مارکیٹ کو فروغ دے گا۔

ناسا کے مطابق، 100 سے زائد سرکاری اور نجی خلائی مشن، اسپیس کمیونیکیشنز اینڈ نیویگیشن پروگرام کے نیئر اسپیس اور ڈیپ اسپیس نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ایجیکشن سسٹم ڈیزائن کریں، انعام پائیں‘، ناسا کا عوام کے لیے چیلنج

یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں ناسا نے “نیر اسپیس نیٹ ورک” کے لیے چار کمپنیوں کو ٹھیکے دیے تھے، جن میں ہیوسٹن کی انٹوئٹ مشین، ناروے کی کونسبرگ سیٹلائٹ سروسز، پینسلوینیا کی ایس ایس سی اسپیس یوایس انک اور جارجیا کی وایاسیٹ انک شامل ہیں۔

ناسا نے مزید 9 نجی کمپنیوں کو بھی مریخ مشن کے تجربات کے لیے 2 سے 3 لاکھ ڈالر فی کمپنی فراہم کیے ہیں، یہ تجربات ناسا کے مارس ایکسپلوریشن پروگرام کا حصہ ہیں، جس کے تحت آئندہ 2 دہائیوں میں مریخ کی جانب متعدد مشنز روانہ کیے جائیں گے۔

ان اقدامات کا مقصد چاند پر مستقل انسانی قیام گاہ کی تشکیل، سامان اتارنے والے مشنز، اور مریخ پر انسان بردار مہمات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بینڈوڈتھ چاند خلا نورد خلائی جہازوں خلائی کمپنیوں خلائی مشن مریخ مواصلاتی ناسا نیویگیشن نظام.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: چاند خلا نورد خلائی جہازوں خلائی کمپنیوں خلائی مشن مواصلاتی نیویگیشن نظام کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام