ٹرمپ کا گوگل، مائیکرو سافٹ جیسی کمپنیوں کو بھارتی شہریوں کو ملازمتیں نہ دینے کا انتباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 24 July, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل اور مائیکرو سافٹ جیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کو سخت پیغام دیا ہے کہ وہ بیرون ملک، خاص طور پر بھارت جیسے ممالک میں ملازمتیں دینے سے باز رہیں۔

بھارتی میڈیارپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں بدھ کو ہونے والے ایک اے آئی سمٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ چین میں فیکٹریاں بنانے یا بھارتی ٹیک ورکرز کو نوکریاں دینے کے بجائے اب ملک کے اندر ہی روزگار پیدا کرنے پر زیادہ توجہ دیں۔

انہوں نے ٹیک انڈسٹری کی ’گلوبل ذہنیت‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس رویے نے بہت سے امریکیوں کو ’نظر انداز کیا ہوا‘ محسوس کرایا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑی ٹیک کمپنیوں نے امریکی آزادی کے ذریعے منافع کمائے، لیکن اپنی سرمایہ کاری زیادہ تر ملک سے باہر کی ہے، انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں وہ دن ختم ہوگئے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہماری بڑی ٹیک کمپنیاں امریکی آزادی کے فوائد اٹھا کر چین میں فیکٹریاں بناتی رہی ہیں، بھارت میں ورکرز کو ملازمت دیتی رہی ہیں اور آئرلینڈ میں منافع چھپاتی رہی ہیں، وہیں امریکی شہریوں کو نظر انداز کرنے اور سنسر کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا، اب وہ دن ختم ہوگئے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اے آئی کی دوڑ جیتنے کے لیے سلیکون ویلی اور اس سے باہر نئی حب الوطنی اور قومی وفاداری کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں پورے دل سے امریکا کے لیے کام کریں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ امریکا کو پہلے رکھیں، بس ہم اتنا چاہتے ہیں۔

امریکی صدر نے اسی سمٹ میں مصنوعی ذہانت سے متعلق 3 نئے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے، ان میں سے ایک قومی حکمت عملی کا خاکہ پیش کرتا ہے جس کا مقصد امریکا میں اے آئی کی ترقی کو بڑھانا اور ایسی رکاوٹوں کو کم کرنا ہے جو ملک کی ترقی کو سست کر سکتی ہیں۔

اس منصوبے کا نام ’دور جیتنا‘ ہے، جس کا مقصد امریکا کو اے آئی میں عالمی رہنما بنانا ہے، ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کو تیز کرنا اور کمپنیوں کو اے آئی کے لیے ضروری انفرااسٹرکچر بنانے میں آسانی فراہم کرنا ہے۔

دوسرا بڑا آرڈر ان کمپنیوں کے لیے ہے، جو وفاقی فنڈ حاصل کرتی ہیں تاکہ وہ سیاسی طور پر غیر جانبدار اے آئی ٹولز تیار کریں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ووکڈ اے آئی ماڈلز کی حمایت نہیں کرتی، انہوں نے پچھلی حکومت پر تنقید کی کہ اس نے تنوع اور شمولیت کی پالیسیاں اپنائی تھیں، جن کی وجہ سے اے آئی کی ترقی سست ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ووکڈ کو ختم کر رہے ہیں، اے آئی ماڈلز کو درست ہونا چاہیے اور کسی بھی نظریاتی اثر سے آزاد ہونا چاہیے، نئے قواعد حکومت کی جانب سے استعمال ہونے والے اے آئی سسٹمز پر بھی لاگو ہوں گے، یعنی وہ جانبدار یا سیاسی طور پر متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

امریکی صدر نے ’مصنوعی ذہانت‘ کے لفظ سے ناپسندیدگی ظاہر کی اور کہا کہ وہ ایسی اصطلاح پسند کرتے ہیں جو اس ٹیکنالوجی کی ذہانت اور طاقت کو بہتر ظاہر کرے، ’یہ مصنوعی نہیں، یہ ذہانت ہے‘۔

تیسرا آرڈر امریکی اے آئی ٹولز کی عالمی مقابلے میں مدد کرنے پر مرکوز ہے، جس میں ان کی برآمدات کو بڑھانا اور امریکا میں اے آئی کی مکمل ترقی کی حمایت شامل ہے۔

اگرچہ یہ تبدیلیاں فوری اثر انداز نہیں ہوں گی، مگر یہ اشارہ دیتی ہیں کہ اگر ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو بھارتی آئی ٹی پیشہ ور افراد اور آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسرمایہ کاری کے لیے پاکستان بہترین مقام بن چکا ہے، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ پاکستان سنجیدہ مذاکرات کی دعوت دے چکا، اب فیصلہ بھارت کو کرنا ہوگا: دفتر خارجہ روس میں مسافر طیارہ گر کر تباہ ، تمام مسافر ہلاک امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی نے قانونی جنگ ختم کرنے اور وفاقی فنڈنگ پر ٹرمپ انتظامیہ سے ڈیل کر لی ٹرمپ انتظامیہ کاامریکا کا سفر کرنے والے ہر فرد پر 250 ڈالرز اضافی رقم عائد کرنے کا فیصلہ مٹھی بھر دہشتگرد بلوچستان اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ نہیں روک سکتے، ترجمان پاک فوج اسرائیل کیساتھ جنگ کیلئے تیار، پر امن مقاصد کیلئے جوہری پروگرام جاری رہے گا، ایرانی صدر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کمپنیوں کو

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار