گھوٹکی: جرائم پیشہ عناصر سے رابطوں اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر 6 پولیس اہلکار برطرف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
سندھ کے شہر گھوٹکی میں چھ پولیس اہلکاروں کو جرائم پیشہ عناصر سے رابطوں اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے کے نتیجے میں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کے مطابق ایک پولیس اہلکار محمد ساجد کولاچی کو ڈاکوؤں سے تعلقات اور رابطے پر ملازمت سے برطرف کیا گیا جبکہ پانچ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی سے مسلسل غیر حاضر اور غفلت برتنے پر برطرف کیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران ک کا کہنا ہے کہ برطرف اہلکاروں میں جمیل احمد مہر، ظہور احمد مہر، امید علی رک، امداد اللّٰہ مہر اور منظور حسین خلجی شامل ہیں۔
ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کا کہنا تھا کہ ضلع گھوٹکی کے تمام پولیس افسران و اہلکاروں اپنی ڈیوٹی کو یقینی بنائیں، فرائض میں غفلت برتنے والوں کی فورس میں جگہ نہیں ہے اور جرائم پیشہ عناصر سے رابطے میں رہنے والے اہلکاروں اور افسران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: غفلت برتنے
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔