Islam Times:
2026-06-02@23:47:26 GMT

لیویز اور پولیس نے حملے پر جوابی کارروائی کی، ڈی سی شیرانی

اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT

لیویز اور پولیس نے حملے پر جوابی کارروائی کی، ڈی سی شیرانی

ڈی سی شیرانی کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے بھاری اسلحہ راکٹ لانچر، سنائپر اور بارودی مواد سے لیویز لائن اور ہولیس تھانے پر حملہ کیا۔ جس پر لیویز اور پولیس اہلکاروں نے بہادری سے جوابی کارروائی کی۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے ضلع شیرانی میں پولیس تھانے اور لیویز لائن پر حملے کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ نے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے بھاری اسلحہ راکٹ لانچر، سنائپر اور بارودی مواد سے حملہ کیا۔ جس پر لیویز اور پولیس اہلکاروں نے بہادری سے جوابی کارروائی کی۔ حملہ آوروں اور اہلکاروں کے درمیان 3 گھنٹے سے زائد تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ جوابی کاروائی نے علاقے کو بڑے نقصان سے بچایا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حملے میں ایک پولیس اہلکار آفتاب الرحمان شہید ہوئے ہیں، جبکہ لیویز کے دو اہلکار کالو خان اور عبدالواحد زخمی ہوئے ہیں۔ جنہیں ٹراما سینٹر کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ لیویز اہلکار اعظم لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔ ڈی سی شیرانی نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے لیویز کی ایک گاڑی اور پی ڈی ایم اے کی امدادی سامان کو آگ لگائی۔ پولیس اور لیویز کی سرچ آپریشن جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور