حمیرہ اصغر کی موت طبعی نہیں، انہیں قتل کیا گیا، تفتیش کیلئے عدالت میں درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
کراچی:
ماڈل و اداکارہ حمیرہ اصغر علی کی لاش گھر سے برآمد ہونے کے واقعہ سے متعلق کراچی کے شہری شاہ زیب سہیل نے واقعے کا مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست ماتحت عدالت میں دائر کردی۔
درخواست میں ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او گزری کو فریق بناتے ہوئے موقف اپنایا گیا ہے کہ حمیرہ اصغر علی کی موت طبعی نہیں بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے، پولیس نے بھی واقعے کو تشویش ناک بتایا ہے، اس واقعہ کی وجہ سے عام لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے، حمیرہ اصغر علی ایک بااثر خاتون تھی وقوعہ کی ویڈیو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انہیں قتل کیا گیا ہو۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ کے خاندان کا ان کے ساتھ قطع تعلق بھی حیرت میں مبتلا کرتا ہے، مقدمہ میں ان کے خاندان کو بھی نامزد کرکے تحقیقات کروائی جائیں، قانونی طور پر جو بھی ممکنہ کوشش کی جاسکتی ہے عدالت کی جانب سے کی جائے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔