غزہ کے خوراک مراکز پر کتنی ضرورتمند خواتین و بچوں کو اسرائیل کھانے کی بجائے موت دے چکا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
اسرائیل اور امریکا کی جانب سے 27 مئی کو غزہ میں امداد کی تقسیم کا متبادل نظام شروع کیا گیا لیکن ان کیمپس پر بھی بچوں اور خواتین سمیت فلسطین کے نہتے مسلمانوں کو موت کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی درندگی جاری: اہلخانہ کے لیے کھانا لینے جانے والوں کی مزید 57 لاشیں خالی ہاتھ گھر واپس
غزہ میں اسرائیلی حملوں و محاصروں کے باعث کھانے پینے سے محروم مظلوم شہری جب خوراک کے حصول کے لیے ان مراکز پر گئے تو ان کا استقبال بندوق کی گولیوں اور گولہ بارود سے کیا گیا۔
خوراک لینے آنے والے ان افراد میں سے اب تک 800 افراد بھوکے پیٹ ہی ماردیے گئے ہیں۔ ان میں سے 315 شہادتیں غزہ امدادی فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے مراکز پر ہوئیں جبکہ 183 افراد امدادی قافلوں سے خوراک اتارنے کی کوشش میں ہلاک ہوئے۔ جی ایچ ایف کو امداد کی تقسیم کا کام اسرائیل اور امریکا نے سونپا ہے اور اس کا اقوام متحدہ یا اس کے اداروں سے کوئی تعلق نہیں۔
اقوام متحدہ کے حکام نے غزہ میں امداد کی تقسیم کے مراکز پر خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں لوگوں کی ہلاکتوں کو ہولناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیے: ’او وی خوب دیہاڑے سَن‘، خوشیاں لانے والی سردیاں اور بارشیں اب غزہ والوں کے دل کیوں دہلا دیتی ہیں؟
عالمی باڈی کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے ان ہلاکتوں پر تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خوراک کے حصول کی کوشش کرنے والوں پر فائرنگ ناقابل قبول اور نامعقول عمل ہے۔
بین الاقوامی قانون کی پامالیاقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی ترجمان روینہ شمداسانی نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں وسطی علاقے دیرالبلح میں اقوام متحدہ شراکت دار امدادی ادارے پراجیکٹ ہوپ کے مرکز پر امداد کے انتظار میں کھڑے افراد پر فائرنگ سے 15 شہادتیں ہوئیں جن میں 9 بچے بھی شامل تھے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ میں بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں پر عملدرآمد کے حوالے سے سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔ اس جنگ میں ہلاک ہونے والے ہزاروں فلسطینی شہریوں میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ خوراک کے حصول کی کوشش میں شہید ہونے والے بیشتر لوگوں کو گولیوں کے زخم آئے۔
مزید پڑھیں: صیہونی افواج کے ہاتھوں ماری جانے والی 10 سالہ راشا کی وصیت پر من و عن عمل کیوں نہ ہوسکا؟
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ترجمان کرسچین ِلنڈمیئر کا کہنا ہے کہ امدادی مراکز پر لوگوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں خواتین، بچے، مرد، لڑکے اور لڑکیاں امدادی مراکز، پناہ گاہوں، راستوں پر یا طبی مراکز میں ماردیے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے جو کسی طور قابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔
غزہ کے 94 فیصد اسپتال اسرائیلی بربریت کی نذرکرسچین ِلنڈمیئر نے کہا ہے کہ 130 یوم کے بعد پہلی مرتبہ غزہ میں 75 ہزار لٹر ایندھن آیا ہے جس کی اس موقعے پر اشد ضرورت تھی۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایندھن، خوراک اور دیگر امدادی سامان کو بڑی مقدار میں اور تواتر سے غزہ میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ اسپتالوں اور ایمبولینس گاڑیوں کو فعال رکھا جا سکے اور پانی صاف کرنے کے پلانٹ، تنور اور طبی مراکز میں انکیوبیٹر کام کرتے رہیں۔
مزید پڑھیں: غزہ: بچوں کی ڈاکٹر نے 9 بچے کھو دیے، شوہر و آخری بچہ موت کی دہلیز پر
ترجمان نے بتایا ہے کہ غزہ میں 94 فیصد اسپتالوں کو جنگ میں نقصان پہنچا ہے یا وہ پوری طرح تباہ ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل کی فوج کے احکامات پر لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے جو تنگ اور گنجان علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خوراک کی بجائے موت غزہ غزہ بچے اور خواتین شہید فلسطین فلسطینی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خوراک کی بجائے موت غزہ بچے اور خواتین شہید فلسطین فلسطینی اقوام متحدہ مراکز پر نے والے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔