data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: سندھ حکومت کی جانب سے اجرک والی نمبر پلیٹس مفت فراہمی اورگاڑیوں پر لگی رجسٹریشن نمبر کی تختیاں تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کردی گئی۔

شہرقائد میں سماجی کارکن اور کراچی نوجوان تحریک کے چیئرمین فیضان حسین نے سندھ ہائیکورٹ میں یہ درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سندھ حکومت کے نمبر پلیٹس کی تبدیلی کے فیصلے سے غریب شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی نمبر پلیٹ نا لگانے والے شہریوں کی گاڑیاں ضبط کرلی جائیں گی۔ شہریوں نے پرانی نمبر پلیٹس رقم کی ادائیگی کے بعد حاصل کی تھیں۔ حکومت کو نئی ڈیزائن کی نمبر پلیٹ مفت فراہم کرنی چاہیں جبکہ پرانی نمبر پلیٹس بھی حکومت کی جاری کردہ ہی تھی۔

درخواست مین فیضان حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی نمبر پلیٹس کی غیر موجودگی پر جرمانے اور ضبطگی کی کوئی وجوہات نہیں ہیں۔ موٹر وہیکل اور ٹریفک پولیس نئی نمبر پلیٹس کی بنیاد پر کاروبار شروع کردیا ہے۔ اور نئی نمبر پلیٹ کے حصول کے لیے رقم وصول کی جارہی ہے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ادارے نئی نمبر پلیٹس مہینوں انتظار کروا رہے ہیں جبکہ ٹریفک پولیس کی جانب سے کراچی کے شہریوں کو غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جارہا ہے۔

درخواست میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو شہریوں کو مفت نئی نمبر پلیٹس جاری کرنے کا حکم دیا جائے۔ شہریوں پر جرمانے اور گاڑیوں کی ضبطگی بند کی جائے۔

درخواست میں سیکریٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، موٹر وہیکل رجسٹریشن ونگ اور ڈی آئی جی ٹریفک کو فریق بنایا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نئی نمبر پلیٹس

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ