سابق صدر عارف علوی کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
سیشن کورٹ لاہور نے سابق صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف گستاخانہ الفاظ کے استعمال سے متعلق مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سوشل میڈیا سے متعلق معاملات کے لیے حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی قائم کر رکھی ہے، لہذا درخواست گزار متعلقہ ادارے سے رجوع کرے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔یہ درخواست شہری شہزادہ عدنان کی جانب سے وکیل محمد مدثر چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق صدر عارف علوی نے گستاخانہ الفاظ استعمال کیے، جن کی ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے، اور اس پر پولیس کو درخواست دینے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کرنے کی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔