غلام احمد میر کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کوئی خیرات نہیں، بلکہ ایک آئینی حق ہے، جسے لوگوں سے چھینا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے سابق صدر اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری غلام احمد میر نے کشمیر کے ریاستی درجے کو یہاں کے لوگوں کا قانونی حق قرار دیتے ہوئے ایک بار پھر اسٹیڈ ہڈ کی بحالی کے حوالہ سے تاخیر پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور دفعہ 370 کی منسوخی، ریاست کی تقسیم کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا۔ غلام احمد میر کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کوئی خیرات نہیں، بلکہ ایک آئینی حق ہے، جسے لوگوں سے چھینا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مرکز سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں، جو کچھ 5 اگست 2019ء کو ہوا، وہ غیر جمہوری، غیر آئینی اور یکطرفہ فیصلہ تھا، جس میں جموں و کشمیر کے عوام کی آواز کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

غلام احمد میر نے یاد دلایا کہ بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ کے اندر بار ہا یہ وعدہ کیا تھا کہ ری آرگنائزیشن (Jammu Kashmir Reorganisation Act) کے بعد اور اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد، ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ان وعدوں کو دس ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، لیکن حکومت نے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔ ملک بھی دیکھ رہا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگ بھی، اگر کوئی حکومت اپنے وعدوں پر قائم نہ رہے تو عوام اس کا محاسبہ ضرور کریں گے۔ غلام احمد میر نے کہا کہ ریاست کا درجہ بحال کرنا کسی انتخاب سے مشروط نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ریاستی درجہ بحال ہوا تو نیا الیکشن منعقد کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا " اگر ایسی کوئی قانونی رکاوٹ ہے تو وہ عوام کے مفاد میں ختم کی جا سکتی ہے"۔

کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری نے جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمر عبداللہ یہ کہتا ہے کہ ریاستی درجہ بحالی کے لئے پر وہ اپنے عہدے کی قربانی کے لئے تیار ہے، تو یہ اس کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے اور قابل ستائش بھی، لیکن عوامی خواہش کو مقدم رکھا جانا چاہیئے، کیونکہ ریاستی حیثیت کی بحالی عوامی احساسات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یوم شہداء (13 جولائی) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس دن کی تاریخی اہمیت کو عمر عبداللہ نے اسمبلی میں بہت خوبصورتی سے بیان کیا تھا اور ہمیں اسی جذبے سے اس دن کو منانا چاہیئے۔ تاہم یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ اس تقریب میں مزار شہداء پر جاکر حاضری دیں گے، غلام احمد میر نے کہا کہ وہ دیکھا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غلام احمد میر نے انہوں نے کہا ریاستی درجہ نے کہا کہ کی بحالی کشمیر کے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان