چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتِ حال، پارلیمانی امور اور قومی مفاد کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے رابطے جاری رکھنے اور سیاسی افہام و تفہیم کے تسلسل پر اتفاق کیا۔ ملاقات خیرسگالی کے جذبے کے تحت ہوئی، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔

یہ بھی پڑھیے: مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کے درمیان ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی؟ تفصیلات سامنے آگئیں

مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کے بعد میڈیا حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ شاید کسی آئینی ترمیم کے لیے مولانا فضل الرحمن کی حمایت حاصل کرنے یا مولانا فضل الرحمن کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے ملاقات کی گئی ہے۔

وی نیوز نے جمعیت علمائے اسلام کے سینیئر رہنما سینیٹر کامران مرتضی سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں؟

جمیعت علماء اسلام کے رہنما سینیٹر کامران مرتضی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کی گزشتہ روز ہونے والی ملاقات بلاول بھٹو کی درخواست پر ہوئی ہے چونکہ کافی عرصے سے دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں تھا تو رابطے بحال کرنے کے لیے یہ ملاقات کی گئی ہے اور مولانا فضل الرحمان کو بھی بلاول ہاؤس آنے کی دعوت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری چونکہ دو مرتبہ مولانا فضل الرحمن کے گھر آ چکے ہیں اس لیے مولانا فضل الرحمان نے دعوت قبول کی ہے اور جلد وہ بلاول ہاؤس جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: بلاول بھٹو سے محسن نقوی کی ملاقات، ملک کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال

سینیٹر کامران مرتضی نے واضح کیا کہ بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن کی اس ملاقات میں نہ تو کوئی خفیہ قانون سازی حمایت کے حوالے سے گفتگو ہوئی ہے نہ ہی بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمن سے کسی مخصوص حمایت کا تقاضا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی یا حمایت یا اس طرح کے معاملے پر گفتگو کی ہی نہیں گئی ہے، مولانا فضل الرحمن کو قائد حزب اختلاف بننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، میڈیا پر جاری قیاس آرائیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلاول بھٹو ملاقات مولانا فضل الرحمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو ملاقات مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمن کہ بلاول بھٹو ملاقات میں کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری

گلگت:

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔

گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو