پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 10 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) سروے 2025 کے مطابق پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا۔او آئی سی سی آئی پاکستان میں 200 سے زائد بین الاقوامی کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے جو ملکی معیشت کے 13 سے زائد اہم شعبوں میں سرگرم ہیں۔
ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے حاصل معاشی استحکام اور بڑھتا ہوا کاروباری اعتماد پاکستان کو ترقی کے نئے مراحل میں داخل کر رہا ہے۔
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی ) کے سروے 2025 کے مطابق پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، بزنس کانفیڈنس انڈیکس11پوائنٹس سے بڑھ کر 22 فیصد تک ہو گیا۔
سروے رپورٹ کے مطابق سروسز سیکٹر 24 فیصد اضافہ کے ساتھ سرفہرست، ریٹیل اور مینوفیکچرنگ کے شعبہ جات میں بھی بہتری ریکارڈ ہوئی ہے۔
بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 14 فیصد سے 23 فیصد تک جبکہ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں منفی 3 فیصد سے 19 فیصد تک بڑھا ہے۔
او آئی سی سی آئی کے اراکین نے حالیہ سروے میں کاروباری اعتماد میں 17 فیصد سے27 فیصد تک اضافہ رپورٹ کیا، سرمایہ کاری کے انڈیکس میں منفی چار سے 12 فیصد تک کا اضافہ ہوا جو پاکستان میں کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے مثبت رجحان کا عندیہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے آرڈرز 26 فیصد سے بڑھ کر 41 فیصد تک پہنچ گئے، جبکہ نئی ملازمتوں کے انڈیکس میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔
او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے ان نتائج کو اعتماد میں مثبت تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کاروباری توسیع اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد ملکی معیشت کے استحکام اور ترقی کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹیرف میرا پسندیدہ لفظ ہے اس سے ملک میں اربوں ڈالر آ رہے ہیں، صدر ٹرمپ ٹیرف میرا پسندیدہ لفظ ہے اس سے ملک میں اربوں ڈالر آ رہے ہیں، صدر ٹرمپ اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی روکنے کی استدعا مسترد، سی ڈی اے کا ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ عرفان صدیقی کے بیٹے عمران خاور صدیقی ایڈوائزر وزیراعلیٰ پنجاب مقرر خاکروب کی آسامیوں کے اشتہار میں ’’صرف مسیحی‘‘ لکھنے پر پابندی صدر زیلنسکی یوکرین میں 90 دن کے اندر مشروط انتخابات کرانے پر رضامند اڈیالہ کے قریب دھرنا ختم، پولیس کا مظاہرین کو منتشر کرنےکیلئے واٹر کینن کا استعمال، پی ٹی آئی کارکنوں کا پتھراؤCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین